ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال آج آٹھویں روز میں داخل ہو گئی ہے، جس کے باعث ملک بھر میں اشیا کی ترسیل، درآمدات اور برآمدات کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ ہیری وہیکل آپریٹرز کی ہڑتال کے باعث اہم تجارتی گزرگاہوں پر مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر معطل ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں کو شدید دھکا لگا ہے۔
معمول کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر 10 ہزار کنٹینرز پورٹ ٹرمینلز سے نکل کر ملک کے مختلف حصوں میں فیکٹریوں، ہول سیل مارکیٹوں اور ریٹیل آؤٹ لیٹس کو سامان پہنچاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے پہیہ جام کرنے کے بعد درآمدی اور برآمدی کھیپ پورٹس پر ہی پھنس گئی ہے، جس سے صنعتی خام مال اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
معیشت کو پچاس ارب روپے سے زائد کا نقصان
گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال کی وجہ سے قومی معیشت اور نجی شعبے کو انتہائی بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تجارتی حلقوں کے تخمینے کے مطابق گزشتہ آٹھ دنوں کے دوران معیشت کو 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچ چکا ہے، جس کی زد میں خوراک سے لے کر صنعتی خام مال تک سب کچھ آ گیا ہے۔
برآمد کنندگان کو بین الاقوامی شپنگ کی ڈیڈ لائن پوری نہ ہونے پر جرمانے کا سامنا ہے، جبکہ درآمد کنندگان اپنی پیدائشی لائنوں کے لیے درکار خام مال کلیئر نہیں کرا पा رہے۔ فیکٹری مالکان نے خبردار کیا ہے کہ اس تعطل کے مزید طول پکڑنے سے صنعتی یونٹس کو عارضی طور پر بند کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے کراچی، فیصل آباد اور لاہور جیسے صنعتی شہروں میں روزگار کے مواقع متاثر ہوں گے۔
بنیادی مطالبات اور مذاکرات میں تعطل
ٹرانسپورٹرز نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بھاری ٹول ٹیکس اور صوبائی ٹرانسپورٹ حکام کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف یہ غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کی ہے۔ سرکاری حکام اور ٹرانسپورٹ یونین کے رہنماؤں کے درمیان کئی دور کے مذاکرات ہو چکے ہیں تاہم دونوں اطراف سے لچک نہ دکھائے جانے کی وجہ سے اب تک کوئی مثبت پیشرفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا اصرار ہے کہ موجودہ ٹیکس نظام اور مہنگے ڈیزل کے ساتھ ہیوی گاڑیاں چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔ دوسری جانب حکومت پر کاروباری تنظیموں کی طرف سے شدید دباؤ ہے کہ وہ مداخلت کرے اور سپلائی چین کو بحال کرائے تاکہ اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافے کو روکا جا سکے۔
قارئین کے لیے ہدایات اور آئندہ کا منظر نامہ
اگر آپ کسی صنعتی یونٹ، ہول سیل کاروبار یا امپورٹ ایکسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں تو اپنے موجودہ اسٹاک کا جائزہ لیں اور تاخیر کے لیے تیاری رکھیں۔ عام شہریوں کو بھی آنے والے دنوں میں بعض درآمدی اور ضروری اشیا کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آئندہ چند روز میں حکومت اور ٹرانسپورٹ رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر نظر رکھیں، کیونکہ پورٹس اور شاہراہوں پر ٹریفک کی بحالی کا انحصار اسی بات پر ہے کہ حکومت مطالبات پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔
