حکومتی نمائندوں اور ٹرانسپورٹ یونین کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے بعد پاکستان بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال شروع ہو گئی ہے۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (APGTA) اور دیگر علاقائی گڈز یونینز نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے ملک گیر ہڑتال کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے باعث کراچی کی بندرگاہوں کو ملک کے دیگر صنعتی شہروں سے جوڑنے والی مرکزی شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی ہے۔

  • صورتحال: گڈز ٹرانسپورٹ یونینز کی جانب سے ملک گیر غیر معینہ مدت کی پہیہ جام ہڑتال۔
  • فریقین: آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن، وفاقی مواصلاتی حکام اور سندھ حکومت۔
  • حکمت عملی: سڑکیں بلاک کرنے کے بجائے گاڑیوں کو ٹرمینلز اور شاہراہوں کے کنارے پر امن طور پر پارک کرنے کی ہدایت۔
  • بنیادی اسباب: ڈیزل کی بلند قیمتیں، ٹول ٹیکس میں اضافہ، بھاری جرمانے اور صوبائی چوکیوں پر ہراسانی۔
  • متاثرہ شعبے: کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر کارگو کی منتقلی، سبزی و پھل منڈیاں اور صنعتی خام مال کی سپلائی۔

مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

ٹرانسپورٹ رہنماؤں اور حکومتی وفد کے درمیان رات گئے ہونے والے مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق حکومت ان کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور انتظامی مشکلات کو حل کرنے کے بارے میں محض روایتی دلاسا دے رہی ہے۔ وفاقی حکومت اور سندھ انتظامیہ کی جانب سے ٹیکسز اور ٹول پر فوری ریلیف دینے سے معذوری کے بعد یونین رہنما اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

ٹرانسپورٹ نمائندوں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں بھاری گاڑیاں چلانا بالکل ناممکن ہو چکا ہے۔ ڈیزل کی قیمتیں اعلیٰ ترین سطح پر ہیں جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ٹول ٹیکسز میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ٹریفک پولیس کے جرمانوں اور صوبائی چیک پوسٹوں پر تاخیر کے باعث گڈز مالکان کا منافع ختم ہو چکا ہے۔

عوام اور کاروبار پر اس ہڑتال کے کیا اثرات ہوں گے؟

اگرچہ یونین رہنماؤں نے ڈرائیوروں کو سڑکیں بلاک کرنے کے بجائے گاڑیاں ٹرمینلز پر کھڑی کرنے کی ہدایت کی ہے، لیکن اس ہڑتال کے معاشی اثرات عام شہریوں پر جلد ظاہر ہوں گے۔ مال بردار گاڑیوں کے رکنے سے بنیادی اشیائے خورونوش کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کراچی پاکستان کی سمندری تجارت کا اہم مرکز ہے۔ بندرگاہوں پر آنے والے کنٹینرز اب اندرون ملک نہیں بھیجے جا سکیں گے، جس سے درآمد کنندگان پر ڈیمریج چارجز کا بوجھ بڑھے گا۔ اسی طرح راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور پشاور کی سبزی و غلہ منڈیوں میں سپلائی کم ہونے سے روزمرہ باورچی خانے کی اشیاء مہنگی ہو سکتی ہیں۔

ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات

- ٹول ٹیکس میں کمی: قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر ٹول ٹیکسوں میں حالیہ اضافے کو فوری واپس لیا جائے۔
- ڈیزل کی قیمتوں میں ریلیف: پٹرولیم پروڈکٹس پر ٹیکس کم کیا جائے یا مال بردار گاڑیوں کے لیے رعایت کا اعلان کیا جائے۔
- صوبائی چوکیوں پر ہراسانی کا خاتمہ: صوبائی سرحدوں پر غیر ضروری چیک پوسٹیں ختم کی جائیں جہاں ڈرائیوروں سے ناجائز جرمانے وصول کیے جاتے ہیں۔
- ایکسل لوڈ پالیسی پر یکساں عملدرآمد: گاڑیوں کے وزن سے متعلق وفاقی اور صوبائی قوانیں میں یکسانیت لائی جائے۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کوئی کاروبار چلاتے ہیں یا گھر کے راشن کا انتظام کرتے ہیں، تو درج ذیل اقدامات پر غور کریں:
- ضروری اشیاء کا ذخیرہ: روزمرہ استعمال کی بنیادی چیزیں منڈیوں میں قیمتیں بڑھنے سے پہلے خرید لیں۔
- تجارتی مال کی منتقلی میں احتیاط: جب تک نقل و حمل کے راستے بحال نہیں ہوتے، بین الصوبائی تجارتی سامان بھیجنے سے گریز کریں۔
- منڈی کے نرخوں پر نظر رکھیں: مقامی انتظامیہ کے سرکاری نرخ ناموں پر نظر رکھیں تاکہ ہڑتال کے بہانے ناجائز منافع خوری سے بچا جا سکے۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

اب تمام تر نظریں وزارت مواصلات اور صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ پر ہیں کہ آیا وہ بحران حل کرنے کے لیے ہنگامی کمیٹی تشکیل دیتے ہیں یا نہیں۔ چیمبرز آف کامرس اور صنعتی تنظیمیں بھی حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ بندرگاہوں کا کام مکمل طور پر ٹھپ ہونے سے پہلے اس معاملے کو حل کیا جائے۔

اگر حکومت کی جانب سے تحریری طور پر ٹیکس یا ٹول میں ریلیف کا یقین دلایا گیا تو ہڑتال مؤخر ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر تعطل 72 گھنٹے سے زائد برقرار رہا تو ملک گیر سپلائی چین کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔