گوگل نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ آنے والی پکسل 11 سیریز کے لیے سات سال تک اسپیئر پارٹس دستیاب ہوں گے۔ یہ اقدام کمپنی کی جانب سے اپنی سافٹ ویئر اپڈیٹ پالیسی کے ساتھ ہارڈ ویئر سپورٹ کو ہم آہنگ کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
پکسل 11 کے اسپیئر پارٹس کیوں اہم ہیں؟
پاکستان میں پکسل جیسے ہائی اینڈ اسمارٹ فونز کے لیے اصلی پرزے تلاش کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ عام طور پر، فون کے دو یا تین سال پرانے ہونے کے بعد، مارکیٹ میں اصلی پرزے ملنا بند ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے صارفین کو غیر معیاری تھرڈ پارٹی پرزوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ سات سال تک ہارڈ ویئر سپورٹ کی ضمانت دے کر، گوگل آپ کے ڈیوائس کی کارآمد زندگی کو نمایاں طور پر بڑھا رہا ہے، جس سے یہ ایک بہتر طویل مدتی سرمایہ کاری بن جاتی ہے۔
- اسکرین، بیٹری اور دیگر ضروری پرزوں کی دستیابی کی ضمانت۔
- سات سالہ سافٹ ویئر اپڈیٹ سائیکل کے ساتھ ہارڈ ویئر سپورٹ کا ہم آہنگ ہونا۔
- نان اوریجنل پرزوں کے استعمال میں کمی جو فون کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔
طویل مدتی پائیداری اور مرمت
یہ پالیسی جدید فلیگ شپ فونز پر ہونے والی تنقید کو دور کرتی ہے، خاص طور پر اس بات پر کہ کمپنیاں دانستہ طور پر فون کو جلد ناکارہ بناتی ہیں۔ اگرچہ فلیگ شپ ڈیوائسز طاقتور ہوتی ہیں، لیکن چند سال بعد بیٹری یا اسکرین خراب ہونے پر وہ بیکار ہو جاتی ہیں۔ پکسل 11 کے ساتھ، آپ کو پرزے نہ ملنے کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ پاکستان میں فلیگ شپ فونز پر ٹیکس اور درآمدی اخراجات کو دیکھتے ہوئے انتہائی اہم ہے، جہاں صارفین اپنے مہنگے فونز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ ایک مہنگا اسمارٹ فون خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو اس کی مجموعی قیمت پر غور کریں۔ ایک ایسا فون جو سات سال تک اصلی پرزوں اور سافٹ ویئر سپورٹ کے ساتھ چلے، وہ ایسے فون سے زیادہ سستا پڑتا ہے جسے آپ کو ہر دو سال بعد تبدیل کرنا پڑے۔ پکسل 11 کے لانچ کے وقت، مقامی مجاز سروس سینٹرز کے ذریعے ان پرزوں کی دستیابی کی تصدیق ضرور کریں۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دیگر کمپنیاں اس معیار پر کیا ردعمل دیتی ہیں۔ جیسے جیسے صارفین "مرمت کے حق" (Right to Repair) کے بارے میں زیادہ باشعور ہو رہے ہیں، سام سنگ اور ژیومی جیسی کمپنیوں پر بھی گوگل کے اس اقدام کی پیروی کرنے کا دباؤ بڑھے گا۔ فی الحال، آفیشل لانچ کے قریب گوگل اسٹور کی فہرستوں پر نظر رکھیں تاکہ علاقائی دستیابی کی تفصیلات معلوم ہو سکیں۔