گوگل ایک ایسے نئے فیچر پر کام کر رہا ہے جس کے تحت جییمنائی اے آئی (Gemini AI) آپ کے کمزور پاس ورڈز کو خودکار طریقے سے درست کر سکے گا، جس سے پاکستانی صارفین کے لیے اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو بہتر بنانا آسان ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ٹول ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ اے آئی آپ کے اکاؤنٹس میں موجود کمزور یا بار بار استعمال ہونے والے پاس ورڈز کی نشاندہی کرے اور انہیں مضبوط اور منفرد پاس ورڈز سے تبدیل کر دے۔
جییمنائی پاس ورڈ فیچر کیسے کام کرے گا؟
اس فیچر کا مقصد ان صارفین کی مدد کرنا ہے جو ایک ہی پاس ورڈ کئی ویب سائٹس پر استعمال کرتے ہیں، جو کہ پاکستان میں ہیکنگ کا ایک بڑا سبب ہے۔ یہ فیچر نہ صرف آپ کے کمزور پاس ورڈ کی نشاندہی کرے گا بلکہ خودکار طریقے سے متعلقہ ویب سائٹ کے پاس ورڈ تبدیل کرنے والے صفحے پر جا کر اسے اپ ڈیٹ کرنے کی صلاحیت بھی رکھے گا۔
کیا اے آئی پر بھروسہ کرنا درست ہے؟
اگرچہ یہ سہولت پرکشش لگتی ہے، لیکن سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے اس پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ پاس ورڈز کو تبدیل کرنے کا اختیار اے آئی کو دینے سے سیکیورٹی کے نئے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر اے آئی کسی ویب سائٹ کو غلط پہچان لیتی ہے یا خودکار عمل میں کوئی خرابی آتی ہے، تو صارف اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کھو سکتا ہے۔ فی الحال یہ ٹیکنالوجی عام صارفین کے لیے تیار نہیں ہے اور گوگل اس کی درستگی پر کام کر رہا ہے۔
آپ کو ابھی کیا کرنا چاہیے؟
اس فیچر کے آنے کا انتظار کرنے کے بجائے، آپ ابھی بھی اپنی سیکیورٹی کو بہتر بنا سکتے ہیں:
- ایک اچھا پاس ورڈ مینیجر استعمال کریں (جیسے Bitwarden)۔
- ہر اہم اکاؤنٹ کے لیے ٹو-فیکٹر آتھنٹیکیشن (2FA) ضرور آن رکھیں۔
- اپنے ای میل، بینکنگ اور سوشل میڈیا کے پاس ورڈز کو ایک دوسرے سے بالکل مختلف رکھیں۔
آگے کیا توقع کی جائے؟
آنے والے مہینوں میں گوگل کروم کے 'ایکسپریمنٹل فیچرز' (chrome://flags) پر نظر رکھیں۔ توقع ہے کہ گوگل اسے پہلے بیٹا ورژن کے طور پر متعارف کرائے گا۔ جب تک یہ مکمل طور پر فعال نہیں ہوتا، اپنی آن لائن سیکیورٹی کے لیے خود ذمہ دار بننا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔
