گوگل اب اینڈرائیڈ صارفین کے لیے native app lock for Android متعارف کروانے کی تیاری کر رہا ہے، تاکہ صارفین کو اپنی ایپس کو محفوظ بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ایپس پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ اس نئے فیچر کے ذریعے آپ اپنی حساس ایپس، جیسے کہ واٹس ایپ یا گیلری، کو فنگر پرنٹ، فیس ان لاک یا پن کوڈ کے ذریعے براہِ راست لاک کر سکیں گے۔
نیٹو ایپ لاک کیوں ضروری ہے؟
پاکستان میں بہت سے اینڈرائیڈ صارفین اپنی ایپس کو سیکیورٹی دینے کے لیے پلے اسٹور سے ایسی ایپس ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں جن میں اکثر اشتہارات بھرے ہوتے ہیں یا وہ فون کی کارکردگی کو سست کر دیتی ہیں۔ گوگل کا یہ اقدام صارفین کو ایک محفوظ اور تیز متبادل فراہم کرے گا۔ یہ فیچر 'پرائیویٹ اسپیس' سے مختلف ہے، کیونکہ اس میں ایپ چھپانے کے بجائے اسے لاک کیا جاتا ہے، جس سے آپ کا ڈیٹا زیادہ محفوظ رہتا ہے۔
اینڈرائیڈ میں نئی کسٹمائزیشن
سیکیورٹی کے علاوہ، گوگل لاک اسکرین کلاکس کو بھی تبدیل کرنے کی سہولت دے رہا ہے۔ اگر آپ اپنے فون کی لاک اسکرین پر موجود گھڑی کے ڈیزائن سے بور ہو چکے ہیں، تو جلد ہی آپ کو اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈیزائن کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ اپ ڈیٹس آنے والے مہینوں میں مرحلہ وار صارفین تک پہنچیں گی۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
چونکہ یہ فیچر ابھی ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے، اس لیے آپ کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
- اپنے فون کی سیٹنگز میں 'System Update' کو باقاعدگی سے چیک کریں۔
- گوگل پلے اسٹور سے ایپس کو اپ ڈیٹ رکھیں۔
- اپنی 'Security & Privacy' سیٹنگز پر نظر رکھیں تاکہ جیسے ہی ایپ لاک کا فیچر آئے، آپ اسے فعال کر سکیں۔
آگے کیا ہوگا؟
گوگل نے ابھی تک اس فیچر کے حتمی اجراء کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن توقع ہے کہ یہ گوگل پلے سروسز کی اپ ڈیٹ کے ذریعے جلد ہی آپ کے فون کا حصہ بن جائے گا۔ ہم اس پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی یہ فیچر عام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، ہم آپ کو مطلع کریں گے۔
