گوگل اس وقت اپنے آنے والے اسمارٹ فون، گوگل پکسل 11 پرو، کے لیے 'پرو ایکٹو اسسٹنس' اور ایک منفرد نوٹیفکیشن سسٹم کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ لانچ کی تاریخ قریب آتے ہی یہ واضح ہو رہا ہے کہ گوگل اب صرف ہارڈ ویئر کے بجائے صارف کے تجربے کو زیادہ ذہین اور پیشگی فعال بنانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔

پرو ایکٹو اسسٹنس اور پکسل 11 پرو

پرو ایکٹو اسسٹنس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ فون آپ کی ضرورت کو آپ کے پوچھنے سے پہلے ہی بھانپ لے۔ جدید مشین لرننگ کے ذریعے، یہ ڈیوائس آپ کو ٹریفک الرٹس، کیلنڈر کی یاد دہانیوں یا سفری دستاویزات عین ضرورت کے وقت فراہم کرے گی۔ پاکستانی صارفین کے لیے، جو روزمرہ کے مصروف معمولات میں گھرے رہتے ہیں، یہ فیچر ایک کارآمد اضافہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ 'ہائی لائٹ' (HiLight) فیچر بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ لیکس کے مطابق، فون کی پشت پر ایک آر جی بی ایل ای ڈی لائٹ ہوگی جو نوٹیفکیشنز کے لیے استعمال ہوگی۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو میٹنگز یا کام کے دوران اپنا فون الٹا رکھتے ہیں اور اسکرین دیکھے بغیر نوٹیفکیشنز کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

قیمت اور ایکسیسریز

اگرچہ باضابطہ لانچ کی تاریخ کا اعلان ہونا باقی ہے، لیکن گوگل اپنے ایکو سسٹم کو بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر، PixelSnap مقناطیسی چارجر کی قیمت اب 34.99 ڈالر (تقریباً 9,750 روپے) تک گر گئی ہے۔ یہ چارجر Qi2 اسٹینڈرڈز اور 25 واٹ تک کی فاسٹ چارجنگ کو سپورٹ کرتا ہے، جو پکسل صارفین کے لیے ایک اچھا آپشن ہے۔

کیا یہ فون خریدنا فائدہ مند ہے؟

اگر آپ پکسل 7 یا 8 استعمال کر رہے ہیں، تو پکسل 11 پرو پر اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آپ اے آئی (AI) سافٹ ویئر کو ہارڈ ویئر کے مقابلے میں کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

  • فوائد: جدید پرو ایکٹو اے آئی، منفرد ہائی لائٹ نوٹیفکیشن سسٹم، اور پریمیم ڈیزائن۔
  • نقصانات: زیادہ قیمت، لانچ کے وقت سافٹ ویئر میں ممکنہ کیڑے، اور پاکستان میں سام سنگ یا ژیاؤمی کے مقابلے میں مرمت کی سہولیات کی کمی۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ فلیگ شپ تجربہ چاہتے ہیں، تو پکسل 11 پرو کا موازنہ سام سنگ گلیکسی ایس سیریز سے ضرور کریں۔ پاکستان میں سام سنگ کو سروس سینٹرز اور اسپیئر پارٹس کی دستیابی کے لحاظ سے برتری حاصل ہے۔ آفیشل اعلان کا انتظار کریں، جو آئندہ چند ماہ میں متوقع ہے۔ تازہ ترین معلومات کے لیے store.google.com پر نظر رکھیں اور پہلے جائزے آنے تک کسی بھی پری آرڈر سے گریز کریں۔