گوگل نے رواں ہفتے اپنی نئی گوگل پিক্সেল 11 سیریز کے لیے پری آرڈرز کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس میں ایک بنیادی ماڈل، دو پرو ماڈلز اور ایک نیا فولڈ ایبل ڈیوائس متعارف کروائے گئے ہیں۔ اگر آپ فلیگ شپ سمارٹ فونز میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو یہ لائن اپ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی لاگت کے باوجود گوگل کی جدید ترین ٹیکنالوجی کو ظاہر کرتی ہے۔

پاکستان میں ٹیک کے شوقین افراد اور موبائل امپورٹرز کے لیے یہ لانچ کافی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم، اس ابتدائی ریلیز میں ایک بڑی کمی یہ ہے کہ گوگل نے اس بار کوئی سستا 'اے سیریز' فون پیش نہیں کیا، جس کا انتظار عام طور پر بجٹ کے حامل صارفین کرتے ہیں۔

پিক্সেল 11 سیریز میں کون سے ماڈلز شامل ہیں؟

نئی گوگل پিক্সেল 11 سیریز صارفین کے لیے چار مختلف آپشنز کے ساتھ سامنے آئی ہے:

  • پিক্সেল 11 (بیس ماڈل): روزمرہ کے استعمال اور بہترین کیمرے کے لیے تیار کردہ بنیادی فلیگ شپ۔
  • پিক্সেল 11 پرو: ایڈوانسڈ زوم کیمروں اور روشن سکرین کے ساتھ پروفیشنل ویرینٹ۔
  • پিক্সেল 11 پرو ایکس ایل: پرو ماڈل کا بڑا ورژن جو بڑی سکرین کے شوقین افراد کے لیے ہے۔
  • پিক্সেল 11 فولڈ: گوگل کا نیا فولڈ ایبل فون جس میں پچھلے ماڈلز کے مقابلے میں بہتر ہنج اور سکرین دی گئی ہے۔

ریم کی قیمتوں میں اضافے کا اثر

مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار ہارڈ ویئر کی تیاری پر خاصی مالیاتی دباؤ رہا ہے۔ دنیا بھر میں ریم کی قیمتوں میں بڑے اضافے نے مینوفیکچررز کو متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل نے فی الحال کوئی سستا بجٹ فون اس فہرست میں شامل نہیں کیا۔

پاکستانی خریدار جو عام طور پر پিক্সেল کے 'اے' ماڈلز کا انتظار کرتے ہیں، انہیں اب مڈ رینج متبادل یا پرانے ماڈلز پر گزارا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لاہور کے حفیظ سینٹر اور کراچی کے صدر جیسے بازاروں میں یہ فونز چند ہفتوں میں امپورٹ ہو کر دستیاب ہوں گے، البتہ پی ٹی اے ٹیکس کے بعد ان کی مقامی قیمت کافی زیادہ ہوگی۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ بیرون ملک سے گوگل پিক্সেল 11 سیریز کا کوئی فون منگوانے کا سوچ رہے ہیں، تو شپنگ اور کسٹم ڈیوٹی کے اخراجات کو پہلے سے مدنظر رکھیں۔ پاکستان پہنچنے پر پی ٹی اے رجسٹریشن کے چارجز کے بارے میں بھی مکمل معلومات حاصل کریں۔ اگر آپ کا بجٹ محدود ہے تو مقامی مارکیٹ میں موجود پچھلی نسل کے فونز آپ کے لیے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔