گوگل نے باضابطہ طور پر google tap to share لانچ کر دیا ہے، جو دو فونز کو آپس میں ٹچ کر کے فائلز اور کانٹیکٹ کارڈز منتقل کرنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ یہ فیچر ایپل کے 'نیم ڈراپ' (NameDrop) کا اینڈرائیڈ جواب ہے، جس کا مقصد معلومات کے تبادلے کو مزید تیز بنانا ہے۔
گوگل ٹیپ ٹو شیئر کیسے کام کرتا ہے؟
اگر آپ گوگل پکسل 6 یا اس سے نیا ماڈل استعمال کر رہے ہیں، تو یہ فیچر آپ کے لیے دستیاب ہے۔ گوگل نے تصدیق کی ہے کہ یہ اپ ڈیٹ سام سنگ کے جدید ترین ڈیوائسز کے لیے بھی جاری کی جا رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی این ایف سی (NFC) اور پراکسیمٹی سینسرز کا استعمال کرتی ہے تاکہ دو ڈیوائسز کے درمیان فوری اور محفوظ رابطہ قائم ہو سکے۔
کیا یہ فیچر واقعی کارآمد ہے؟
پاکستان میں عام صارفین کے لیے، یہ ایک سہولت ہے نہ کہ کوئی بنیادی ضرورت، کیونکہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ فائلز اور کانٹیکٹس کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، پیشہ ور افراد کے لیے جو بغیر کسی کوالٹی کے نقصان کے ہائی ریزولیوشن تصاویر یا ڈیٹا بھیجنا چاہتے ہیں، یہ ایک بہترین ٹول ہے۔
فائدے:
- کسی بھی ڈیوائس کو تلاش کیے بغیر فوری کنکشن۔
- کانٹیکٹ کارڈ شیئر کرنے کے لیے نمبر یا ای میل دینے کی ضرورت نہیں۔
- سسٹم لیول پر کام کرنے کی وجہ سے تھرڈ پارٹی ایپس سے زیادہ تیز۔
نقصانات:
- فی الحال یہ صرف مخصوص ہائی اینڈ ڈیوائسز تک محدود ہے۔
- دونوں فونز میں اس فیچر کا ہونا اور ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔
اسے کیسے استعمال کریں؟
اسے استعمال کرنے کے لیے یقینی بنائیں کہ آپ کے فون کی سیٹنگز میں این ایف سی آن ہے۔ جب آپ کوئی فائل شیئر کرنا چاہیں، تو اپنے فون کو دوسرے ہم آہنگ فون کے پچھلے حصے کے قریب لائیں۔ اسکرین پر آپ کو ٹرانسفر کی تصدیق کے لیے ایک اینیمیشن نظر آئے گی۔ یہ دفتری کاموں یا سماجی تقریبات میں ڈیٹا شیئر کرنے کا ایک پروفیشنل طریقہ ہے۔
ہمارا فیصلہ
اگر آپ کے پاس پکسل 6 یا نیا سام سنگ فلیگ شپ فون ہے، تو فوری طور پر اپنی سسٹم اپ ڈیٹس چیک کریں۔ یہ فیچر بالکل مفت ہے اور اس کے لیے کوئی اضافی قیمت ادا نہیں کرنی۔ اگرچہ یہ اینڈرائیڈ اور آئی فون کے درمیان واٹس ایپ کا متبادل نہیں بن سکتا، لیکن اینڈرائیڈ ایکو سسٹم کے اندر یہ ایک انتہائی مفید اضافہ ہے۔ مستقبل میں گوگل اسے مزید اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے بھی متعارف کرائے گا۔
