وفاقی حکومت نے ملک کے بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شہدا اور غازیوں کے لیے 78 سول اعزازات دینے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اہم فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت گیلنٹری ایوارڈز سے متعلق خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں قومی خدمات انجام دینے والے افراد کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔

سول اعزازات کی تفصیلات

اجلاس کے دوران ان 78 افراد کی فہرست کو حتمی شکل دی گئی جنہوں نے ملکی دفاع، امن و امان اور دیگر شعبوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا یا غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔ اس فہرست میں شامل ناموں کا انتخاب ایک سخت جانچ پڑتال کے عمل کے بعد کیا گیا ہے تاکہ صرف مستحق اور بہادر افراد کو ہی یہ اعزازات مل سکیں۔

  • کل منظور شدہ اعزازات: 78
  • مرکزی کردار: شہدا اور غازی
  • کمیٹی کی سربراہی: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

انتخاب کا عمل

حکومت کی جانب سے یہ اعزازات ان افراد کو دیے جا رہے ہیں جنہوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کی پرواہ نہیں کی۔ کمیٹی نے مختلف کیسز کا جائزہ لیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قومی سطح پر ان کی قربانیوں کو ایک باوقار طریقے سے تسلیم کیا جائے۔ یہ اقدام معاشرے میں حب الوطنی اور خدمت کے جذبے کو اجاگر کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

متاثرہ خاندانوں کے لیے اہمیت

ان شہدا اور غازیوں کے خاندانوں کے لیے یہ سرکاری اعزاز ایک اعزاز سے کم نہیں ہے۔ اگرچہ کوئی بھی تمغہ کسی کی جان کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، لیکن ریاست کی طرف سے یہ اعتراف ان کے خاندانوں کے لیے فخر کا باعث ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان اعزازات کی تقسیم کا عمل جلد شروع کر دیا جائے گا۔

آئندہ کے اقدامات

عوام کو اب سرکاری تقریب کا انتظار ہے جو ایوانِ صدر میں منعقد کی جائے گی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے بہت جلد اعزازات کی تقسیم کی حتمی تاریخوں اور تقریب کی تفصیلات کا اعلان متوقع ہے۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے وزارت داخلہ کی ویب سائٹ اور سرکاری پریس ریلیز پر نظر رکھیں۔