وفاقی حکومت اس وقت ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری اور توثیق کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری کی رسمی منظوری کے بغیر نوٹیفکیشن جاری کرنے کی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔ روایتی طور پر، ہائی کورٹ ججوں کی تعیناتی کا عمل وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر صدر کی دستخطی منظوری کا متقاضی ہوتا ہے، تاہم اب اس طریقہ کار میں تبدیلی لانے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
ہائی کورٹ ججوں کی تعیناتی کے عمل میں صدر کو نظر انداز کرنے کے اثرات
موجودہ قانونی ڈھانچے کے تحت، صوبائی ہائی کورٹس میں ججوں کی تعیناتی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کی نامزدگیوں اور پارلیمانی کمیٹی کی جانچ پڑتال کے بعد ہوتی ہے۔ اس کے بعد سمری وزیراعظم کو بھیجی جاتی ہے، جو صدر کو باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اگر حکومت صدر کے دستخط کے بغیر یہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو یہ پارلیمانی طریقہ کار سے ایک بڑا انحراف ہوگا۔ اس اقدام سے ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر ایک نئی قانونی اور سیاسی بحث چھڑ سکتی ہے۔
حکومت اس اقدام پر کیوں غور کر رہی ہے؟
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت عدالتی خالی اسامیوں کو پُر کرنے میں ہونے والی تاخیر کو کم کرنا چاہتی ہے۔ ملک بھر کی ہائی کورٹس میں ججوں کی تعداد مقررہ حد سے کم ہے، جس کی وجہ سے زیر التواء مقدمات کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور عام شہریوں کو انصاف کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔
- حکومت کا موقف ہے کہ ایوانِ صدر کی سطح پر انتظامی تاخیر سے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
- ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کو نظر انداز کرنا ایگزیکٹو پاور کا بے جا استعمال ثابت ہو سکتا ہے۔
- یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 175-A کی تشریح سے متعلق ہے۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
ایک عام پاکستانی کے لیے، یہ پیشرفت حکومت اور صدر کے آئینی عہدے کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر حکومت اس راستے پر چلتی ہے تو اس کے خلاف عدالتوں میں فوری قانونی چارہ جوئی کا امکان ہے۔ آپ کو وزارتِ قانون و انصاف کے سرکاری نوٹیفکیشنز پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ طریقہ کار سے کسی بھی قسم کی ہٹ دھرمی کا براہِ راست اثر نئے تعینات ہونے والے ججوں کی قانونی حیثیت پر پڑے گا۔ ہائی کورٹ ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے آئندہ اجلاس اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ حکمت عملی عملی طور پر نافذ کی جا رہی ہے یا نہیں۔
