وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے اختتام کے فورا بعد 17 اگست کو قومی اسمبلی کا نیا اجلاس بلانے کی تجویز پر فعال انداز میں غور شروع کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی امور چلانے والے چاہتے ہیں کہ علاقائی سیاسی مصروفیات ختم ہوتے ہی زیر التوا بلوں کو نمٹایا جائے اور اہم معاشی پالیسیوں پر بحث کی جائے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کی ٹائ밍

آئندہ کے پارلیمانی شیڈول کی منصوبہ بندی آزاد جموں و کشمیر میں انتخابی شیڈول کے گرد گھوم رہی ہے۔ حکومتی عہدیدار نہیں چاہتے کہ جب اہم سیاسی رہنما وفاقی دارالحکومت سے باہر انتخابی مہم چلا رہے ہوں تو یہاں اسمبلی کے اندر سیاسی محاذ آرائی ہو۔ تاریخ 17 اگست مقرر کرنے سے مختلف جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ پوری توجہ کے ساتھ اسلام آباد واپس آ سکیں گے۔ وزراء اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کر رہے ہیں تاکہ صدر پاکستان کو بھیجے جانے والے باضابطہ مشورے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

قانون سازی کی ترجیحات اور معاشی بحث

قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر قانون سازوں کو زیر التوا قانون سازی، ضمنی بجٹ کے امور اور بین الاقوامی مالیاتی معاہدوں کے تحت درکار ریگولیٹری ترامیم کا سامنا ہوگا۔ اپوزیشن benches کی طرف سے پہلے ہی یہ اشارہ مل چکا ہے کہ وہ مہنگائی کے اعداد و شمار، توانائی کے نرخوں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے نافذ کردہ حالیہ ٹیکس اقدامات پر کابینہ کے اراکین سے سخت سوالات کریں گے۔

قارئین کو اب کیا کرنا چاہیے

اگر آپ وفاقی قانون سازی، پالیسیوں میں تبدیلیوں یا روزمرہ کے بجٹ کو متاثر کرنے والے معاشی امور پر نظر رکھتے ہیں، تو آنے والے دنوں میں جاری ہونے والے پارلیمانی نوٹیفیکیشنز کا جائزہ لیتے۔ سول سوسائٹی کی تنظیمیں، کاروباری ادارے اور قانونی ماہرین اسمبلی سیکرٹریٹ کی ویب سائٹ پر ابتدائی ایجنڈا دیکھ سکتے ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

کابین ڈویژن یا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے باضابطہ نوٹیفیکیشن کا انتظار کریں جو 17 اگست کے لیے اجلاس کے وقت اور ایجنڈے کی تصدیق کرے۔ اس کے بعد سینئر وزراء کی پارلیمانی سال کے بقیہ حصے کے لیے حکومت کی ترجیحات پر تقاریر اور معاشی امدادی اقدامات پر اپوزیشن کے جوابات سامنے آئیں گے۔