تمباکو کی غیر قانونی تجارت کو روکنے اور ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنے کے لیے حکومت نے گرین لیف تھریشنگ (GLT) یونٹس کی نگرانی کو سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کا ماننا ہے کہ تمباکو کی کاشت سے لے کر سگریٹ مینوفیکچرنگ پلانٹس تک کے عمل کو دستاویزی شکل دینا ٹیکس چوری کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔

تمباکو کی غیر قانونی تجارت کے اثرات

صنعتی ماہرین کا طویل عرصے سے یہ موقف رہا ہے کہ تمباکو کی پروسیسنگ کے ابتدائی مراحل میں نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے ایک بڑا حصہ بلیک مارکیٹ میں چلا جاتا ہے۔ جب تمباکو کے پتے جی ایل ٹی یونٹس میں پروسیس ہوتے ہیں، تو ریکارڈ نہ ہونے کے باعث یہ مال ٹیکس نیٹ سے باہر رہ جاتا ہے۔ اب حکومت ان یونٹس پر جدید ٹریکنگ سسٹم نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ تمباکو کی نقل و حرکت کا مکمل ڈیٹا حاصل کیا جا سکے۔

جی ایل ٹی یونٹس کیوں اہم ہیں؟

جی ایل ٹی یونٹس تمباکو کی فصل اور سگریٹ سازی کے درمیان ایک کڑی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ فی الحال، ٹیکس حکام کے لیے یہ تصدیق کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کتنی فصل پیدا ہوئی اور کتنی پروسیسنگ کے لیے یونٹس میں گئی۔ نئے اقدامات کے تحت، ایف بی آر ان یونٹس کو ڈیجیٹل رپورٹنگ کا پابند بنائے گا تاکہ ہر کلو گرام تمباکو کا حساب کتاب رکھا جا سکے۔

  • تمباکو انڈسٹری میں ٹیکس تعمیل کو بہتر بنانا۔
  • غیر دستاویزی مینوفیکچررز کو خام مال کی فراہمی روکنا۔
  • فصل کی پیداوار اور پروسیسنگ کے حجم کا شفاف ڈیٹا جمع کرنا۔

مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟

تمباکو کے کاروبار سے وابستہ افراد کو اب سخت جانچ پڑتال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اگر ایف بی آر ان یونٹس کو خودکار ریکارڈ رکھنے کا پابند بناتا ہے، تو اس سے ٹیکس چوری کرنے والے سگریٹ برانڈز کی مارکیٹ میں جگہ تنگ ہو جائے گی۔ تاجروں اور صنعت کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایف بی آر کی جانب سے جاری ہونے والے نئے ایس آر اوز (SROs) پر نظر رکھیں تاکہ قانونی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔