وفاقی حکومت نے ملک کے توانائی کے شعبے میں بڑی اصلاحات کرتے ہوئے دونوں سرکاری گیس یوٹیلیٹیز کو پانچ چھوٹی کمپنیوں میں تقسیم کرنے کی تیاریاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ اسلام آباد میں زیر غور تجویز کے تحت سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کو ایک قومی ٹرانسمیشن کمپنی اور چار الگ صوبائی ڈسٹریبیوشن کمپنیوں میں تبدیل کیا جائے گا۔

یہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اسی ماڈل پر مبنی ہیں جو اس سے پہلے بجلی کے شعبے میں ڈسکوز کی تقسیم کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کے اجارہ دارانہ نظام کو توڑنے سے انتظامی شفافیت آئے گی، گیس کے ضیاع میں کمی ہوگی اور علاقائی سطح پر ذمہ داری کا تعین ممکن ہو سکے گا۔

حکومت گیس کمپنیوں کی تقسیم کیوں کر رہی ہے؟

کئی سالوں سے دونوں یوٹیلیٹیز سرکلر ڈیٹ، بنیادی ڈھانچے کی سست روی اور گیس چوری یا لائن لاسز کے مسائل کا شکار ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مرکزی نظام کے تحت سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں گیس چوری کی روک تھام مشکل ہو جاتی ہے۔

صوبائی سطح پر گیس ڈسٹریبیوشن کمپنیاں بننے سے انتظامی امور متعلقہ صوبائی حکومتوں اور مقامی سطح کے زیادہ قریب آ جائیں گے۔ حکام کا خیال ہے کہ اس سے صارفین کی شکایات کا ازالہ جلد ہو سکے گا اور غیر قانونی کنکشنز کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے گی۔

آپ کے ماہانہ گیس کے بل پر اس کا کیا اثر ہوگا؟

لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے عام صارفین یہ سوچ رہے ہیں کہ اس تقسیم سے مہنگے بلوں میں کوئی کمی آئے گی یا نہیں۔ مختصر مدت میں اس انتظامی تقسیم سے گیس کے ذخائر خود بخود نہیں بڑھیں گے اور نہ ہی درآمدی ایل این جی سستی ہوگی۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اگر صوبائی یونٹس گیس کے ضیاع پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو طویل مدت میں ٹیرف کا نظام بہتر ہو سکتا ہے۔ اس وقت بہتر کارکردگی والے علاقے بھی دیگر حصوں میں ہونے والی گیس چوری کا بوجھ اٹھا رہے ہیں جو کہ حساب الگ ہونے کے بعد ختم ہو سکتا ہے۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

  • پیٹرولیم ڈویژن کے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ آپ کا گیس کنکشن کس نئی کمپنی کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
  • جرمانے اور کنکشن کٹنے کے خطرے سے بچنے کے لیے اپنے SNGPL یا SSGC کے بل وقت پر ادا کرتے رہیں۔
  • اپنے گھر کے گیس اپلائنسز کی لیکج چیک کریں تاکہ ٹیرف بڑھنے سے پہلے آپ کا استعمال کم سے کم رہے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

وفاقی کابینہ کے اجلاسوں اور اوگرا کی جانب سے ان چاروں نئی صوبائی کمپنیوں کے لائسنس جاری کرنے کے عمل پر نظر رکھیں۔ ان دونوں اداروں کی یونینز ماضی میں بھی اس تقسیم کی مخالفت کرتی رہی ہیں، اس لیے ملازمین کے ساتھ مذاکرات اس اصلاحات کی کامیابی کا اصل امتحان ہوں گے۔