وفاقی حکومت پاکستان میں موبائل فونز، لیپ ٹاپس، ٹیبلٹس اور گاڑیوں کے ٹریکنگ آلات کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع میڈ ان پاکستان موبائل پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (EDB) کے اشتراک سے تیار کی جانے والی اس نئی پالیسی کا مقصد ملک کو محض پرزے جوڑنے (اسمبلی) کے مرحلے سے نکال کر مکمل مینوفیکچرنگ کی طرف لے جانا ہے۔ درآمدی پرزوں پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی کمپنیوں کو ملک کے اندر ہی قیمتی پرزے بنانے کی ترغیب دی جائے گی۔

یہ نئی پالیسی 2020 میں لانچ کی گئی موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی (MDMP) کی خامیوں کو دور کرے گی۔ اگرچہ پرانی پالیسی کے تحت شیاؤمی، سیمسنگ اور انفينکس جیسے بڑے برانڈز نے پاکستان میں اپنے اسمبلی پلانٹس لگائے، لیکن اب بھی زیادہ تر اہم پرزے باہر سے ہی منگوائے جاتے ہیں۔ نئی پالیسی میں مقامی سطح پر پرزے تیار کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکس میں بڑی رعایتیں دی جائیں گی۔

نئی پالیسی کے مسودے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- وسیع دائرہ کار: موبائل فونز کے ساتھ ساتھ اب لیپ ٹاپس، ٹیبلٹس اور ٹریکنگ ڈیوائسز کو بھی اس پالیسی میں شامل کیا گیا ہے۔
- مقامی تیاری کے اہداف: مقامی مینوفیکچررز کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ اگلے تین سالوں میں چارجر، پیکیجنگ، پلاسٹک باڈی اور بیٹریاں کم از کم 30 فیصد مقامی سطح پر تیار کریں۔
- ٹیکس میں رعایت: مقامی طور پر پرزے بنانے کے لیے درآمد کیے جانے والے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم یا انتہائی کم کی جائے گی۔
- برآمدات پر توجہ: جو کمپنیاں پاکستان میں تیار کردہ ٹیک پروڈکٹس کو دوسرے ممالک میں برآمد کریں گی، انہیں خصوصی مالیاتی مراعات دی جائیں گی۔
- ٹریکنگ ڈیوائسز کی مقامی تیاری: گاڑیوں کے جی پی ایس ٹریکرز کی مقامی سطح پر تیاری لازمی قرار دی جائے گی تاکہ آٹو سیکٹر کے اخراجات کم ہوں اور ڈیٹا سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

محض اسمبلی سے حقیقی مینوفیکچرنگ کا سفر

پاکستان کی موجودہ موبائل انڈسٹری زیادہ تر سیمی ناک ڈاؤن (SKD) کٹس پر چل رہی ہے۔ مقامی پلانٹس بنے بنائے سرکٹ بورڈز، سکرینیں اور بیٹریاں درآمد کرتے ہیں اور کراچی، لاہور یا فیصل آباد میں انہیں جوڑ کر فون تیار کرتے ہیں۔ اس سے کم مہارت والی نوکریاں تو پیدا ہوتی ہیں لیکن ڈالر باہر جانے سے نہیں رکتے۔

نئی میڈ ان پاکستان موبائل پالیسی کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور ای ڈی بی ایک نیا ٹیرف اسٹرکچر نافذ کریں گے۔ جو کمپنیاں کمپلیٹ ناک ڈاؤن (CKD) کٹس اور خام مال درآمد کریں گی، انہیں تقریباً صفر ڈیوٹی دینا ہوگی، جبکہ بنے بنائے پرزے درآمد کرنے والوں پر بھاری ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔

وزارت آئی ٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے اندر ایک مکمل مینوفیکچرنگ سسٹم قائم کرنا ہے۔ چارجر، یو ایس بی کیبلز اور پیکیجنگ جیسے سامان کی مقامی سطح پر تیاری سے ملک کو ہر سال کروڑوں ڈالرز کے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔

لیپ ٹاپس اور ٹریکنگ ڈیوائسز کو شامل کرنے کی وجہ

موبائل فونز سے ہٹ کر لیپ ٹاپس اور ٹریکنگ ڈیوائسز کو پالیسی میں شامل کرنے کا فیصلہ ملک میں بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ پاکستان ہر سال تعلیمی اور کاروباری مقاصد کے لیے لاکھوں لیپ ٹاپس درآمد کرتا ہے۔ لیپ ٹاپ بنانے والی کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ دے کر حکومت موبائل انڈسٹری جیسی کامیابی یہاں بھی دہرانا چاہتی ہے۔

مزید برآں، ٹریکنگ ڈیوائسز کی مقامی تیاری آٹو اور لاجسٹکس سیکٹر کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس وقت زیادہ تر ٹریکرز تیار حالت میں درآمد کیے جاتے ہیں۔ ان آلات کی مقامی سطح پر تیاری سے نہ صرف گاڑیوں کے مالکان کے لیے ٹریکنگ سروسز سستی ہوں گی بلکہ پی ٹی اے کے قواعد کے مطابق ڈیٹا سیکیورٹی بھی بہتر ہوگی۔

یہ پالیسی آپ کی جیب پر کیسے اثر انداز ہوگی؟

عام پاکستانی صارفین کے لیے اس پالیسی کا سب سے بڑا فائدہ سستی الیکٹرانکس کی شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔ اس وقت بھاری ریگولیٹری ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی وجہ سے درآمدی اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔

اگر مقامی پلانٹس نئی میڈ ان پاکستان موبائل پالیسی کے تحت پرزے بنانا شروع کر دیتے ہیں، تو پیداواری لاگت میں واضح کمی آئے گی۔ صارفین کو درج ذیل فوائد مل سکتے ہیں:
- مقامی سطح پر تیار ہونے والے بجٹ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک کمی متوقع ہے۔
- موبائل کے اسپیئر پارٹس (جیسے بیٹری اور سکرین) سستے ملیں گے کیونکہ اب ان کی درآمد پر بھاری ٹیکسز لاگو ہیں۔
- طلبہ کے لیے سستے لیپ ٹاپس کی دستیابی آسان ہوگی، جو کہ تعلیمی اخراجات کے پیش نظر انتہائی ضروری ہے۔

تاہم، قیمتوں میں فوری کمی کی توقع نہ رکھیں۔ فیکٹریوں کے قیام اور مقامی مینوفیکچرنگ شروع ہونے میں وقت لگتا ہے، اس لیے شروع میں قیمتیں مستحکم رہ سکتی ہیں۔

صارفین کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ نیا اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ یا گاڑی کے لیے ٹریکر خریدنے کا سوچ رہے ہیں، تو ان باتوں کا خیال رکھیں:
- "اسمبلڈ ان پاکستان" پروڈکٹس کو ترجیح دیں: مقامی طور پر اسمبل شدہ ڈیوائسز خریدنے سے آپ پی ٹی اے ٹیکس کی مد میں بھاری رقم بچا سکتے ہیں۔
- بڑے پیمانے پر خریداری میں جلدی نہ کریں: اگر آپ کسی اسکول یا کمپنی کے لیے بڑی تعداد میں لیپ ٹاپس یا ٹیبلٹس خریدنا چاہتے ہیں، تو پالیسی کے باقاعدہ نفاذ کا انتظار کریں۔ 2025 کے آخر یا 2026 کے اوائل تک کارپوریٹ خریداری سستی ہو سکتی ہے۔
- پی ٹی اے تصدیق لازمی کریں: کوئی بھی مقامی ڈیوائس خریدنے سے پہلے پی ٹی اے کے 'ڈی آئی آر بی ایس' (DIRBS) سسٹم کے ذریعے اس کی تصدیق ضرور کریں۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

اس پالیسی کا مسودہ اس وقت وزارت صنعت و پیداوار اور ایف بی آر کے زیر غور ہے۔ اگلا اہم مرحلہ وفاقی کابینہ سے اس کی حتمی منظوری ہے، جو کہ آئندہ چند ماہ میں متوقع ہے۔

صارفین کو ایئر لنک کمیونیکیشن، لکی موٹر کارپوریشن (سیمسنگ) اور انووی ٹیلی کام جیسے بڑے مقامی اداروں کے اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے۔ ان کمپنیوں کی جانب سے لیپ ٹاپس یا ٹریکنگ ڈیوائسز کی تیاری کے منصوبے ہی اس پالیسی کی کامیابی کا اصل ثبوت ہوں گے۔ اس کے علاوہ آئندہ بجٹ سیشنز پر بھی نظر رکھیں جہاں اس پالیسی کے لیے مخصوص ٹیکس قوانین وضع کیے جائیں گے۔