وفاقی حکومت ایک نئی پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے جس کے تحت گیس فیلڈز کے قریب دیہاتوں کو گیس کی فراہمی کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ان علاقوں کے رہائشیوں کو ریلیف مل سکے۔ پارلیمانی کمیٹی کے حالیہ اجلاس کے دوران حکام نے تصدیق کی کہ گیس فیلڈز سے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع دیہاتوں کو قدرتی گیس کے کنکشن دینے کے لیے جامع رہنما خطوط تیار کیے جا رہے ہیں۔

گیس فیلڈز کے قریب دیہاتوں کو گیس کی فراہمی کی اہمیت

برسوں سے سندھ اور بلوچستان جیسے صوبوں میں بڑے گیس فیلڈز کے قریب رہنے والے رہائشی اس تضاد کا شکار ہیں کہ وہ توانائی کے ذخائر کے اوپر رہتے ہوئے بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ مجوزہ پالیسی کا مقصد اس خلا کو پُر کرنا ہے تاکہ ان علاقوں کے مکینوں کو فائدہ پہنچ سکے جو براہِ راست گیس کی تلاش اور پیداوار کی سرگرمیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔

اگرچہ تکنیکی ضروریات اور لاگت کے اشتراک کے ماڈلز پر ابھی بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم حکومت کا ارادہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے منصوبوں کے تحت ان کنکشنز کو ترجیح دی جائے۔ پارلیمانی کمیٹی کو بتایا گیا کہ پالیسی میں ان دیہاتوں کے لیے اہلیت کے معیار کا تعین کیا جائے گا تاکہ ترقیاتی کام باقاعدہ طریقے سے انجام پائے۔

مقامی رہائشیوں کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟

اگر آپ کسی فعال گیس فیلڈ کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں، تو یہ پالیسی مستقبل میں آپ کے علاقے میں آفیشل گیس پائپ لائنز بچھانے کا باعث بن سکتی ہے۔ فی الحال، ان علاقوں میں سے بہت سے لوگ کھانا پکانے اور گرمائش کے لیے مہنگی ایل پی جی یا لکڑی پر انحصار کرتے ہیں، جس سے گھریلو بجٹ پر کافی بوجھ پڑتا ہے۔ پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس کی فراہمی ان خاندانوں کے لیے ایک سستا اور قابلِ اعتماد متبادل ثابت ہوگی۔

تاہم، یہ بات ذہن میں رہے کہ اس پر عمل درآمد پالیسی کے حتمی مسودے اور پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے کے لیے فنڈز کی منظوری پر منحصر ہے۔ حکومت نے ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی کہ پہلا کنکشن کب مکمل ہوگا، لیکن پالیسی کو حتمی شکل دینے کا عزم یہ ظاہر کرتا ہے کہ منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

  • پالیسی کی حتمی منظوری: توانائی کی وزارت کی جانب سے پالیسی کے رہنما خطوط کے باضابطہ نوٹیفکیشن پر نظر رکھیں۔ اس دستاویز میں اہلیت کے معیارات اور درخواست دینے کا طریقہ کار درج ہوگا۔
  • بجٹ مختص کرنا: گراؤنڈ پر کام کی رفتار کا انحصار مالی سال کے جائزے میں گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے لیے مختص کردہ فنڈز پر ہوگا۔
  • عمل درآمد: پالیسی کے باضابطہ اجرا کے بعد، علاقائی گیس کمپنیاں ان دیہاتوں کی نشاندہی کے لیے سروے شروع کریں گی جو مقررہ فاصلے کے اندر آتے ہیں۔

فی الحال، اگر آپ کا گاؤں کسی فعال گیس فیلڈ کے قریب واقع ہے، تو آپ کو مقامی ضلعی حکومت کے اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے۔ وفاقی پالیسی کے نفاذ کے بعد یہی انتظامی چینلز درخواستیں جمع کروانے کے طریقہ کار سے آگاہ کریں گے۔