حکومت نے آٹو پالیسی 2026-31 کی اصولی منظوری دے دی ہے، جو پاکستان کی آٹوموبائل صنعت کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔ اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم اسٹیئرنگ کمیٹی نے ملک میں گاڑیوں کی تیاری، درآمد اور فروخت کے لیے پانچ سالہ فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کر لیا ہے۔
آٹو پالیسی 2026-31 کا فریم ورک
اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی مینوفیکچرنگ سیکٹر کو درپیش چیلنجز کا حل نکالنا اور جدید آٹوموٹو ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔ 2026 سے 2031 تک کے اس دورانیے کے لیے پالیسی کا مقصد مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری کو بڑھانا اور غیر ملکی زرمبادلہ پر دباؤ کو کم کرنا ہے۔
صارفین پر اثرات
عام پاکستانی خریداروں کے لیے آٹو پالیسی 2026-31 کا مطلب گاڑیوں کی قیمتوں اور معیار میں بہتری کی امید ہے۔ اگر یہ پالیسی مقامی سطح پر گاڑیوں کے پرزے بنانے اور مارکیٹ میں مسابقت کو بڑھانے میں کامیاب رہتی ہے، تو مستقبل میں صارفین کو بہتر اور سستی گاڑیاں ملنے کا امکان ہے۔
آئندہ کے اقدامات
اس اصولی منظوری کے بعد متعلقہ وزارتیں اب حتمی ضوابط تیار کریں گی۔ آپ کو وزارت صنعت و پیداوار کی ویب سائٹ پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی آپ کو تفصیلات کا علم ہو سکے۔ آنے والے مہینوں میں حکومت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرے گی تاکہ پالیسی کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
