پاکستانی حکومت رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عام شہریوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی غرض سے ڈیجیٹل پراپرٹی ٹوکنز کے اجراء پر غور کر رہی ہے۔
بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال سے حکومت کا مقصد پراپرٹی کی خرید و فروخت کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرنا ہے۔ اس اقدام کے تحت، شہری بڑی کمرشل عمارتوں یا رہائشی منصوبوں میں چھوٹے حصوں (Fractional Ownership) کی خریداری کر سکیں گے، جس سے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ صرف بڑے سرمایہ کاروں تک محدود نہیں رہے گی۔
ڈیجیٹل پراپرٹی ٹوکنز کیا ہیں؟
ڈیجیٹل پراپرٹی ٹوکنز کا بنیادی مقصد کسی بھی فزیکل اثاثے، جیسے کہ کوئی پلاٹ یا عمارت، کو ڈیجیٹل یونٹس میں تبدیل کرنا ہے۔ عام حالات میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے لاکھوں یا کروڑوں روپے درکار ہوتے ہیں، لیکن ٹوکنائزیشن کے ذریعے ایک عام سرمایہ کار اپنی استطاعت کے مطابق کسی بڑے پروجیکٹ کا چھوٹا حصہ خرید سکے گا۔
یہ طریقہ کار رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں 'لیکویڈیٹی' کے مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال، پراپرٹی بیچنا ایک طویل عمل ہے، جبکہ ڈیجیٹل ٹوکنز کو سیکنڈری مارکیٹ میں آسانی سے ٹریڈ کیا جا سکے گا، جس سے سرمایہ کاروں کو اپنی رقم نکالنے میں آسانی ہوگی۔
حکومت کے مقاصد
ڈیجیٹل پراپرٹی ٹوکنز کے ذریعے حکومت معیشت کو دستاویزی بنانے اور سرمایہ کاری کو ریگولیٹڈ چینلز کی طرف لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس اقدام سے مندرجہ ذیل فوائد متوقع ہیں:
- پراپرٹی کے لین دین میں شفافیت آئے گی۔
- نقد لین دین میں کمی آئے گی جس سے ٹیکس چوری کی روک تھام ممکن ہوگی۔
- سرمایہ کاروں کو سونے یا غیر ملکی کرنسی کے بجائے رئیل اسٹیٹ میں ایک محفوظ متبادل ملے گا۔
آپ کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟
اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو متوسط طبقے کے لیے پراپرٹی مارکیٹ میں داخل ہونا آسان ہو جائے گا۔ آپ کو ایک پوری پراپرٹی خریدنے کے لیے سالوں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ آپ چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری کر کے کرائے یا پراپرٹی کی قیمت میں اضافے سے منافع کما سکیں گے۔
تاہم، اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار سخت ریگولیٹری فریم ورک پر ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ ہے کہ وہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کے فراڈ سے بچا جا سکے۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
ابتدائی مرحلے میں یہ تجربہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے کمرشل پروجیکٹس پر کیا جا سکتا ہے۔ جب تک حکومت باضابطہ طور پر اس کا طریقہ کار جاری نہ کر دے، کسی بھی غیر تصدیق شدہ پلیٹ فارم پر سرمایہ کاری سے گریز کریں۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری ویب سائٹس کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔
