وفاقی حکومت نے سولر سسٹم کی سستی بجلی سے متعلق بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے جس کے تحت گھروں اور دفاتر میں نصب سولر سسٹمز سے گرڈ میں جانے والی اضافی بجلی کو ضائع ہونے سے بچایا جائے گا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو گرڈ اسٹیشنز پر ذخیرہ کرنا اور رات کے اوقات میں جب بجلی کی طلب زیادہ ہوتی ہے، اسے صارفین تک پہنچانا ہے۔

سولر سسٹم کی سستی بجلی کے نئے ضوابط

موجودہ نیٹ میٹرنگ کے نظام میں صارفین اپنی اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرتے ہیں، لیکن گرڈ سسٹم پر پڑنے والے دباؤ کے پیش نظر حکومت اب ایک نئی سولر سسٹم کی سستی بجلی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد قومی گرڈ کو مستحکم کرنا اور رات کے اوقات میں مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس سے بجلی کے مجموعی پیداواری اخراجات میں کمی آئے گی اور صارفین کو ریلیف مل سکے گا۔

صارفین کے بلوں پر اثرات

اس نئی پالیسی کے تحت نیٹ میٹرنگ کے ریٹس میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام توانائی کے شعبے کو خود کفیل بنانے کے لیے ہے، لیکن سولر صارفین اس بات پر فکرمند ہیں کہ کیا ان کے ایکسپورٹ ہونے والے یونٹس کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی۔ نیپرا (NEPRA) کی جانب سے جلد ہی ٹیرف کے حوالے سے حتمی تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کے گھر میں سولر سسٹم لگا ہوا ہے، تو آپ کو درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
- نیپرا کی آفیشل ویب سائٹ (nepra.org.pk) پر باقاعدگی سے نظر رکھیں تاکہ کسی بھی نئی پالیسی سے آگاہ رہ سکیں۔
- اپنی ڈسٹری بیوشن کمپنی (DISCO) سے اپنے نیٹ میٹرنگ معاہدے کی تازہ ترین صورتحال معلوم کریں۔
- مستقبل میں آنے والی ٹیرف کی تبدیلیوں کے لیے اپنے بجلی کے بلوں کے پیٹرن کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

آئندہ کا لائحہ عمل

حکومت اس منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا آغاز ان علاقوں سے ہوگا جہاں سولر پینلز کی تنصیب سب سے زیادہ ہے۔ آنے والے دنوں میں وزارتِ توانائی کی جانب سے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے فنڈز اور ٹیکنالوجی کی فراہمی پر کام شروع کیا جائے گا۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کے بجائے سرکاری اعلانات پر ہی بھروسہ کریں۔