وفاقی حکومت نے باضابطہ طور پر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کو یہ ٹاسک سونپا ہے کہ وہ موجودہ ریگولیٹری ڈھانچے کا جامع جائزہ لے کر پاکستان میں کاروبار کو آسان بنائے۔ اس اقدام کا مقصد ان بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے جنہوں نے طویل عرصے سے مقامی کاروباری افراد اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی راہ میں مشکلات کھڑی کر رکھی ہیں۔

SIFC کو کاروبار میں آسانی کا ٹاسک کیوں دیا گیا؟

فیصلہ سازی کو مرکزی حیثیت دینے اور منظوری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے حکومت نے SIFC کو اصلاحات کا مرکزی کردار بنایا ہے۔ برسوں سے پاکستانی کاروبار صوبائی اور وفاقی حکام کے درمیان دائرہ اختیار کے تنازعات، ٹیکس فائلنگ کے پیچیدہ عمل، اور یوٹیلیٹی کنکشنز کے حصول میں تاخیر کا شکار رہے ہیں۔ SIFC کو بااختیار بنا کر حکومت ایک 'ون ونڈو' ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے جہاں سرمایہ کار متعدد محکموں کے چکر لگائے بغیر اپنے مسائل حل کر سکیں۔

مقامی کاروباری افراد کے لیے اس کے اثرات

اگر آپ پاکستان میں کوئی سٹارٹ اپ یا چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعت (SME) چلا رہے ہیں، تو اس ہدایت کا مطلب مستقبل میں سرکاری دفاتر کے کم چکر اور تعمیلی اخراجات میں کمی ہو سکتا ہے۔ حکومت کی توجہ درج ذیل نکات پر ہے:

  • کاروباری آپریشنز کے لیے درکار لائسنسوں کی تعداد میں کمی۔
  • وفاقی اور صوبائی محصولات کے اداروں کے درمیان ٹیکس وصولی میں ہم آہنگی۔
  • سرکاری خریداری اور معاہدوں کے نفاذ میں شفافیت کو بہتر بنانا۔
  • نئے منصوبوں کے لیے این او سی (NOC) کے اجراء میں تیزی لانا۔

اگرچہ یہ پالیسی اپنے ابتدائی نفاذ کے مرحلے میں ہے، لیکن اس کا مقصد روایتی اور کاغذی کارروائی کے نظام سے نکل کر ٹیکنالوجی پر مبنی خودکار نظام کی طرف بڑھنا ہے۔ ان اصلاحات کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ صوبائی سطح پر ان قوانین کو کتنی جلدی نافذ کیا جاتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے دنوں میں SIFC کے بورڈ اجلاسوں پر نظر رکھیں جہاں ان ریگولیٹری تبدیلیوں کے لیے مخصوص ٹائم لائنز کا اعلان متوقع ہے۔ حکومت سے توقع ہے کہ وہ ایک تفصیلی روڈ میپ جاری کرے گی جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ کن شعبوں—جیسے زراعت، آئی ٹی، یا مینوفیکچرنگ—کو ان اصلاحات کے لیے ترجیح دی جائے گی۔ آپ نئی پالیسیوں اور آسان طریقہ کار سے متعلق اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری پورٹل sifc.gov.pk پر نظر رکھ سکتے ہیں۔