حکومتِ پاکستان نے پرائیویٹ حج اسکیم کے نظام میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے بکنگ، معاہدوں اور مالی معاملات کو وزارت مذہبی امور کی براہِ راست نگرانی میں لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عازمینِ حج کو نجی ٹور آپریٹرز کی جانب سے ممکنہ استحصال سے بچانا اور حج کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔
پرائیویٹ حج بکنگ کے نئے ضوابط
نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت اب کوئی بھی پرائیویٹ حج آپریٹر وزارت کی اجازت اور نگرانی کے بغیر بکنگ نہیں کر سکے گا۔ آپریٹرز کو اپنے تمام سروس پیکجز اور مالی معاہدے وزارت کے پاس رجسٹر کروانا ہوں گے۔ اس تبدیلی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ عازمین سے کیے گئے وعدے، بشمول رہائش اور سفری سہولیات، سعودی عرب میں عملی طور پر پورے کیے جائیں۔
- معاہدوں کی لازمی رجسٹریشن: عازمین اور آپریٹرز کے درمیان تمام معاہدے وزارت سے منظور شدہ ہوں گے۔
- مالی نگرانی: حج اخراجات کی ادائیگیوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی تاکہ زائد وصولی کو روکا جا سکے۔
- سروس کا معیار: آپریٹرز کو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ معیار کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔
حکومتی تبدیلی کی وجہ
ماضی میں عازمینِ حج کو نجی آپریٹرز کی جانب سے ناقص رہائش اور وعدہ خلافی جیسی شکایات کا سامنا رہا ہے۔ نئی پالیسی کے ذریعے حکومت ان آپریٹرز کو جوابدہ بنا رہی ہے جو اپنی من مانی کرتے تھے۔ یہ اقدام سعودی وزارتِ حج و عمرہ کے ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے بھی ناگزیر تھا۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ جو آپریٹرز ان نئے مالیاتی اور آپریشنل ضوابط کی پاسداری نہیں کریں گے، ان کے لائسنس معطل کر دیے جائیں گے۔
عازمین کے لیے ہدایات
اگر آپ حج کا ارادہ رکھتے ہیں تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
- وزارت مذہبی امور کی آفیشل ویب سائٹ پر تصدیق کریں کہ آپ کا منتخب کردہ ٹور آپریٹر رجسٹرڈ ہے۔
- اپنا معاہدہ کرتے وقت ہوٹل کی کیٹیگری، حرم سے دوری اور پرواز کی تفصیلات تحریری طور پر حاصل کریں۔
- کسی بھی ایسی ایجنسی کو رقم نہ دیں جو وزارت کے نئے مانیٹرڈ پورٹل کے تحت رسید فراہم کرنے سے انکاری ہو۔
آئندہ چند ہفتوں میں وزارت کی جانب سے مزید ہدایات متوقع ہیں۔ عازمین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ وزارت کے آفیشل اعلامیوں پر نظر رکھیں تاکہ حج کی ادائیگی کے دوران کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔
