خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے نوجوان نسل پر زور دیا ہے کہ وہ ایک پرامن پاکستان کی تشکیل کے لیے اپنی زندگیوں کو سیرت النبی ﷺ کے اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔ جمعرات کے روز پشاور میں اپنے ایک بیان میں انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ نوجوانوں کو جدید تعلیم، پیشہ ورانہ مہارتوں اور مثبت رویوں کو اپنانا چاہیے۔

گورنر نے واضح کیا کہ اسلامی ورثے کے بنیادی اصول معاشرتی استحکام اور رواداری کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں موجودہ معاشی چیلنجز کے تناظر میں اخلاقی اقدار کو اپنانا طلباء اور پیشہ ور افراد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

تعلیم اور ہنر ترقی کا زینہ

گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ اخلاقی اقدار کے ساتھ جدید صلاحیتوں کا حصول بھی ناگزیر ہے۔ نوجوان روایتی باتوں کی بجائے تکنیکی مہارت اور مضبوط تعلیمی بنیاد کے ذریعے ہی موجودہ مسابقتی دور میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

صوبائی تعلیمی حلقوں میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اخلاقی تربیت اور معاشی خود کفالت کے امتزاج سے ہی مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ گورنر کے یہ خیالات صوبے میں انتہا پسندی کے خاتمے اور تعلیمی اصلاحات سے ہم آہنگ ہیں۔

روادار معاشرے کا قیام

مذاکرات، صبر اور باہمی احترام ہی ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔

آئندہ کا لائحہ عمل

یہ دیکھنا ہوگا کہ صوبائی ادارے ان تعلیمی ہدایات کو کس طرح عملی جامہ پہناتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں تعلیمی نصاب اور یوتھ سیشنز میں ان ہدایات کے نفاذ کا جائزہ لیا جائے گا۔