سندھ کے گورنر سید محمد نہال ہاشمی نے کراچی میں سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (SSUET) کے احاطے میں ایک جدید مصنوعی ذہانت لیبارٹری کا افتتاح کر دیا ہے، جس کا مقصد اے آئی لیب کراچی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ یہ نئی سہولت طلباء کو مشین لرننگ، نیورل نیٹ ورکس اور ڈیٹا پروسیسنگ کے جدید ٹولز تک عملی رسائی فراہم کرے گی جو عام طور پر روایتی نصاب میں دستیاب نہیں ہوتے۔
تعلیمی اداروں میں تکنیکی سہولیات کا فروغ
پاکستان کے تعلیمی اداروں کو خصوصی کمپیوٹنگ کے سامان کی فراہمی میں ہمیشہ مالیاتی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے۔ اس لیب کے قیام سے ایس ایس یو ای ٹی کا مقصد کلاس روم کی نظریاتی تعلیم اور عالمی سافٹ ویئر مارکیٹ کی عملی ضروریات کے درمیان فرق کو کم کرنا ہے۔ طلباء کو پیچیدہ الگورتھم چلانے کے لیے کیمپس میں مخصوص اوقات ملیں گے۔
طلباء اور اساتذہ کے لیے کیا توقعات ہیں
یونیورسٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ مرکز کمپیوٹر وژن، قدرتی زبان کی پروسیسنگ اور آٹومیشن پر توجہ مرکوز کرنے والے فائنل ایئر پروجیکٹس کی حمایت کرے گا۔ اس نئے تعلیمی سیٹ اپ کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
- جدید گرافکس پروسیسنگ یونٹس سے لیس ہائی پرفارمنس ورک سٹیشنز۔
- پوسٹ گریجویٹ اسکالرز اور فیکلٹی ممبران کے لیے تحقیقی سلاٹس۔
- مقامی سافٹ ویئر ہاؤسز کے اشتراک سے منعقد ہونے والے کوڈنگ بوٹ کیمپس۔
- جونیئر انڈرگریजुಯೇٹس کے لیے پروگرامنگ ٹیوٹوریلز۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ اس وقت ایس ایس یو ای ٹی میں زیر تعلیم ہیں یا آنے والے سمسٹرز میں داخلے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو اپنے ڈیپارٹمنٹل کوآرڈینیٹر سے رسائی کے شیڈول اور تربیتی کورسز کے بارے میں لازمی معلوم کریں۔ دیگر کراچی کی یونیورسٹیوں کے انجینئرنگ طلباء کو بھی اپنے اداروں میں ایسے اقدامات پر نظر رکھنی چاہیے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
اس بات پر گہری نظر رکھیں کہ یونیورسٹی ان مہنگے کمپیوٹرز کو کس طرح برقرار رکھتی ہے اور آیا فیکلٹی ممبران اس انفراسٹرکچر کو عملی اسٹارٹ اپس میں تبدیل کر پاتے ہیں یا نہیں۔ بجلی کی طویل بندش کے دوران اس لیب کا متبادل توانائی کا نظام بھی اس کی کامیابی کا اصل امتحان ہوگا۔
