وفاقی حکومت نے مالی بحران کے شکار سرکاری ادارے پاکستان ٹیلی ویژن کو رواں مالی سال کے دوران چلانے کے لیے 13 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے۔ قومی خزانے سے ملنے والی اس بھاری رقم کا مقصد ادارے کے روزمرہ کے اخراجات، تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا ہے۔ پرائیویٹ میڈیا چینلز کے مقابلے میں جدید دور کے تقاضوں سے پیچھے رہ جانے والا یہ سرکاری ادارہ اب بھی مالی طور پر اپنے پائوں پر کھڑا ہونے سے قاصر ہے۔

سرکاری ٹی وی ملک کے ان بیس بڑے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں میں شامل ہو چکا ہے جو ہر سال قومی خزانے پر بوجھ بنتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب پی ٹی وی ملک کا واحد اور سب سے بڑا ٹیلی ویژن نیٹ ورک تھا، لیکن ڈیجیٹل میڈیا اور درجنوں نجی چینلز کے آنے کے بعد اس کی ناظرین میں مقبولیت اور اشتہارات سے ہونے والی آمدنی میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ ادارے کی انتظامیہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے، جس کا خمیازہ ٹیکس دہندگان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ضمنی گرانٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

پی ٹی وی کے پاس اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے اور بجلی کے بل چکانے کے لیے بھی خاطر خواہ وسائل نہیں بچے۔ بجلی کے بلوں کے ذریعے عوام سے وصول کیا جانے والا ٹی وی فیض اور دیگر ذرائع سے آنے والی محدود آمدنی ادارے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزارتِ خزانہ کو مجبوراََ ضمنی گرانٹ جاری کرنا پڑتی ہے تاکہ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سمیت تمام مراکز کا نظام چلتا رہے۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مالیاتی بیل آؤٹ دراصل اصل بیماری کا علاج نہیں بلکہ عارضی مرہم ہیں۔ جب تک سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت ختم نہیں کی جاتی اور پروفیشنل مینجمنٹ کو آگے نہیں لایا جاتا، یہ ادارے قومی خزانے سے اربوں روپے ہڑپ کرتے رہیں گے۔ عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے جبکہ دوسری طرف سرکاری اداروں کے خسارے پورے کرنے کے لیے ٹیکسوں کا بوجھ مزید بڑھایا جا رہا ہے۔

عام شہریوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟

آپ جو اشیائے خوردونوش، پٹرول اور یوٹیلیٹی بلوں پر ٹیکس دیتے ہیں، اسی رقم سے ایسے ناکارہ اداروں کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ پیسے صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں پر خرچ کیے جائیں تو عوام کو براہِ راست ریلیف مل سکتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے حکومتی ترجیحات میں خسارے میں چلنے والے اداروں کو سہارادینا ہمیشہ سے سرفہرست رہا ہے۔

آئندہ دنوں میں آپ کو پارلیمانی کمیٹیوں کی رپورٹس پر نظر رکھنی چاہیے جہاں اس قسم کے سرکاری فنڈز کے استعمال پر بحث کی جاتی ہے۔ کیا حکومت کبھی پی ٹی وی کی نجکاری یا اس کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کا جرأتمندانہ فیصلہ کرے گی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاسوں میں اس گرانٹ کے استعمال اور پی ٹی وی کی اصلاحات کے حوالے سے وزیرِ اطلاعات سے سوالات متوقع ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا انتظامیہ واقعی اخراجات کم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ لائحہ عمل بناتی ہے یا پچھلے سالوں کی طرح گرانٹس کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔