وفاقی حکومت نے نئے نافذ العمل سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کے تحت سرکاری ملازمین کے ذاتی اور گمنام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی شب و روز کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔
یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کی جانب سے حکومت مخالف بیانیے، سیاسی نظریات کے اظہار اور غیر مجاز سرکاری معلومات کی سوشل میڈیا پر تشہیر کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکومت نے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 پر سختی سے عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد اب سرکاری افسران کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی نئے قواعد کے دائرے میں آ گئے ہیں۔
نئی مانیٹرنگ پالیسی کے اہم نکات
- ہدف: تمام وفاقی اور صوبائی سرکاری ملازمین بشمول سول سرونٹس، پولیس اہلکار، اساتذہ اور انتظامی عملہ۔
- لاگو قانون: سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026۔
- نگرانی کے دائرے میں آنے والے پلیٹ فارمز: فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، واٹس ایپ گروپس اور یوٹیوب۔
- ممنوعہ سرگرمیاں: حکومت مخالف پوسٹس شیئر کرنا، سرکاری دستاویزات لیک کرنا، سیاسی وابستگی کا اظہار اور گمنام یا فرضی اکاؤنٹس کے ذریعے ریاستی اداروں پر تنقید۔
- تادیبی کارروائی: معطلی، تنزلی یا ملازمت سے برطرفی۔
سوشل میڈیا رولز پر عمل درآمد کا طریقہ کار
سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کے تحت حکومت نے سرکاری ملازمین کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی مانیٹرنگ سیل قائم کر دیے ہیں۔ ماضی میں بھی اس حوالے سے ہدایات موجود تھیں، لیکن ان پر سختی سے عمل درآمد نہیں ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ملازمین واٹس ایپ اور فیس بک پر سیاسی بحث و مباحثے اور سرکاری خط و کتابت بلا جھجھک شیئر کرتے تھے۔
اب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ڈیجیٹل مانیٹرنگ یونٹس کے تعاون سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو باقاعدگی سے اسکین کرے گا۔ اگر کوئی سرکاری ملازم حکومت مخالف پوسٹ کو لائک، شیئر یا تحریر کرتا ہوا پایا گیا تو اسے سنگین تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ پابندی نہ صرف دفتری اوقات بلکہ ذاتی وقت میں کی جانے والی سرگرمیوں پر بھی لاگو ہوگی۔
گمنام اور فرضی اکاؤنٹس کے خلاف کریک ڈاؤن
حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج وہ گمنام یا فرضی اکاؤنٹس ہیں جنہیں سرکاری ملازمین اپنی شناخت چھپا کر سیاسی تنقید یا سرکاری دستاویزات لیک کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل فارنزک اور ٹریکنگ ٹولز کا استعمال کیا جائے گا تاکہ مشکوک اکاؤنٹس کے آئی پی ایڈریسز (IP Addresses) اور رجسٹریشن کی تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔ اگر کوئی فرضی اکاؤنٹ کسی سرکاری ملازم کے فون نمبر یا ای میل سے منسلک پایا گیا تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ فرضی نام کے پیچھے چھپ کر قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
سرکاری ملازمین کے لیے اہم ہدایات
اگر آپ پاکستان میں سرکاری ملازم ہیں تو اپنی ملازمت کو محفوظ رکھنے کے لیے فوری طور پر درج ذیل اقدامات کریں:
- اپنے پروفائلز کا جائزہ لیں: اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ماضی میں کی گئی پوسٹس، شیئرز اور لائکس کو چیک کریں۔ کوئی بھی ایسی پوسٹ جو سیاسی نوعیت کی ہو یا حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے زمرے میں آتی ہو، اسے فوری ڈیلیٹ کریں۔
- سرکاری دستاویزات شیئر کرنے سے گریز کریں: دفتری نوٹیفیکیشنز، خطوط یا سمریاں سوشل میڈیا پر کبھی اپ لوڈ نہ کریں، چاہے وہ پہلے سے ہی پبلک کیوں نہ ہو چکی ہوں۔
- سیاسی بحث سے دور رہیں: سیاسی جماعتوں، رہنماؤں یا حکومتی فیصلوں پر تبصرہ کرنے سے مکمل پرہیز کریں۔
- پرائیویسی سیٹنگز سخت کریں: اپنے اکاؤنٹس کو پرائیویٹ سیٹنگز پر منتقل کریں، لیکن یاد رکھیں کہ پرائیویسی سیٹنگز بھی مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتیں۔
- متنازع گروپس چھوڑ دیں: ایسے واٹس ایپ یا فیس بک گروپس سے فوری طور پر الگ ہو جائیں جہاں سیاسی یا ریاست مخالف مواد شیئر کیا جاتا ہو۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
آنے والے ہفتوں میں ان ملازمین کو شوکاز نوٹسز جاری کیے جانے کا امکان ہے جنہوں نے اپنے آن لائن پروفائلز سے متنازع مواد حذف نہیں کیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے مانیٹرنگ سیلز کے کام کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے ایک تفصیلی سرکلر بھی جلد متوقع ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سخت مانیٹرنگ کو ہائی کورٹس میں چیلنج کیا جا سکتا ہے کیونکہ ناقدین کے مطابق یہ اقدام آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 کے تحت حاصل آزادیِ اظہارِ رائے کے بنیادی حق کے خلاف ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا سرکاری ملازمین کی ایسوسی ایشنز ان قوانین کو عدالت میں چیلنج کرتی ہیں یا ملازمت بچانے کا خوف بیوروکریسی میں مکمل خاموشی کا سبب بنے گا۔
