وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 17 اگست تک موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا اہم فیصلہ کیا ہے، جس سے عام شہریوں کو وقتی طور پر ریلیف مل گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق آنے والے چند روز کے لیے ایندھن کے نرخ تبدیل نہیں کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب توانائی کے شعبے میں انتظامی امور اور قیمتوں کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری ہے، جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
اس عارضی فیصلے کے پیچھے پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے منافع بڑھانے کے لیے ڈ ڈالے جانے والے دباؤ اور ہڑتال کی دھمکیاں ہیں۔ پیٹرولیم ڈیلرز کے ایک گروپ کی جانب سے کام بند کرنے کی دھمکی کے بعد حکومت کو فوری طور پر ای سی سی کا اجلاس بلانا پڑا۔ ذرائع کے مطابق ڈیلرز اپنے کمیشن میں اضافے کے لیے حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں، اور انتظامیہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل تیار کر رہی ہے۔
آپ کے ماہانہ بجٹ پر اس کا کیا اثر ہوگا؟
روزانہ سفر کرنے والے شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے پیر 17 اگست تک قیمتوں کا برقرار رہنا ایک عارضی سکھ کا سانس ہے۔ پمپوں پر آپ کو فی الحال پرانے نرخوں پر ہی پیٹرول اور ڈیزل ملے گا۔ تاہم یہ ریلیف بہت طویل نہیں ہے کیونکہ 18 اگست کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، جس میں بین الاقوامی منڈی کے رجحانات اور ڈیلرز کے ساتھ ہونے والے فیصلوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈیلرز کے مطالبات کیا ہیں؟
ملک بھر کے فیول اسٹیشنز کا مؤقف ہے کہ بجلی کے بھاری بلوں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور دیگر مصارف میں ہوشربا اضافے کے بعد ان کا موجودہ مارجن ناکافی ہو چکا ہے۔ ڈیلرز فی لیٹر منافع میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت مہنگائی کے پیش نظر اس اضافے سے گریزاں رہی ہے، تاہم ہڑتال کی کال نے حکومتی مشینری کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ روزانہ کی بنیاد پر سفر کرتے ہیں یا ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں، تو 18 اگست کو متوقع سرکاری اعلان پر نظر رکھیں۔ فی الحال ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے، لیکن کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچنے کے لیے خبروں سے باخبر رہیں۔
آگے کیا متوقع ہے؟
تمام نظریں اب اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں اور 18 اگست کو آنے والی نئی قیمتوں کی سمری پر ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا حکومت ڈیلرز کے مطالبات مانتی ہے یا صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ آنے والے چند گھنٹے اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے۔
