وفاقی حکومت نے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت سمیت دیگر برآمدی شعبوں کے لیے 10 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد برآمدی شعبے کی لیکویڈیٹی کے مسائل کو حل کرنا اور صنعتکاروں کو درپیش مالی مشکلات میں کمی لانا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسلام آباد میں اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ یہ فنڈز بنیادی طور پر ڈیوٹی ڈرا بیک آف ٹیکسز (DDT) اسکیم کے تحت واجب الادا کلیمز کی ادائیگی اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ ٹیکسٹائل، جو پاکستان کی کل برآمدات کا 60 فیصد سے زائد حصہ ہے، حالیہ عرصے میں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور عالمی منڈی میں مانگ میں کمی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔
ٹیکسٹائل اور ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے فنڈز کی تفصیلات
ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت سے وابستہ کاروباری افراد کے لیے یہ 10 ارب روپے کا پیکیج ایک اہم ریلیف ہے۔ اس رقم سے ان کمپنیوں کو فائدہ ہوگا جو ڈیوٹی ڈرا بیکس کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے ورکنگ کیپیٹل کے مسائل کا سامنا کر رہی تھیں۔
- کل مختص کردہ رقم: 10 ارب روپے۔
- مرکزی فائدہ اٹھانے والے: ٹیکسٹائل اور ملبوسات بنانے والے برآمد کنندگان۔
- بنیادی مقصد: ڈیوٹی ڈرا بیک کلیمز کی کلیئرنس اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن۔
- نگران ادارہ: وزارت تجارت۔
قومی معیشت پر اثرات
حکومت کا یہ فیصلہ برآمدی اہداف کے حصول کے لیے ایک کوشش ہے۔ ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن پر توجہ مرکوز کرنے سے مقامی کمپنیاں ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی طرف منتقل ہو سکیں گی، جو عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام مقامی صنعت کو بنگلہ دیش اور ویتنام جیسی حریف منڈیوں کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں لانے کے لیے ضروری ہے۔
اگر آپ برآمد کنندہ ہیں، تو آپ کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے سرکلرز پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ فنڈز کی تقسیم کمرشل بینکوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ برآمد کنندگان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ تجارتی ایسوسی ایشنز، جیسے کہ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) کے ساتھ رابطہ رکھیں تاکہ کلیمز کی پروسیسنگ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
آگے کیا ہوگا؟
اگرچہ یہ 10 ارب روپے کا پیکیج فوری ریلیف فراہم کرے گا، تاہم صنعت کو توانائی کی قیمتوں اور خام مال کی دستیابی جیسے طویل مدتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ تجزیہ کار اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ رقم کتنی تیزی سے برآمد کنندگان کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوتی ہے اور کیا حکومت آئندہ سہ ماہی جائزوں میں مزید مراعات کا اعلان کرے گی۔
فی الحال، صنعت کاروں کی نظریں اس فنڈز کی تقسیم کے عمل پر ہیں۔ اگر آپ ایکسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں، تو وزارت تجارت کی آفیشل ویب سائٹ پر اپ ڈیٹس چیک کرتے رہیں۔
