وفاقی حکومت نے پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی صحافیوں کے لیے این او سی کے حصول کو لازمی قرار دے دیا ہے، جس کے تحت اب وہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی کی حدود سے باہر این او سی کے بغیر سفر یا رپورٹنگ نہیں کر سکیں گے۔

نئی میڈیا پالیسی کے اہم حقائق

- نئی پابندی: غیر ملکی میڈیا کے نمائندے اب این او سی کے بغیر اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر نہیں جا سکتے۔
- متاثرہ علاقے: خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ و پنجاب کے دیہی علاقوں میں سفر پر پابندی ہوگی۔
- درخواست کی مدت: صحافیوں کو سفر سے کم از کم 15 ورکنگ دن پہلے وزارت اطلاعات و نشریات کو درخواست دینا ہوگی۔
- مطلوبہ تفصیلات: درخواست میں سفر کا مکمل شیڈول، مقامی رابطے اور رپورٹنگ کا مقصد واضح کرنا ہوگا۔
- فوری نفاذ: یہ پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہے اور اس کا اطلاق تمام غیر ملکی پاسپورٹ ہولڈرز اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے عملے پر ہوگا۔

حکومت نے نقل و حرکت پر پابندی کیوں لگائی؟

وزارت اطلاعات و نشریات نے وزارت داخلہ کے تعاون سے اس اقدام کو سیکیورٹی پروٹوکول کا حصہ قرار دیا ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ حساس علاقوں میں غیر ملکی شہریوں، بشمول میڈیا نمائندوں، کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالیہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ریاست کا کہنا ہے کہ اسے غیر ملکیوں کی نقل و حرکت سے باخبر رہنا چاہیے۔

تاہم، مقامی صحافی اور بین الاقوامی تنظیمیں اس فیصلے کو ایک الگ نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد حساس موضوعات، جیسے کہ سیکیورٹی آپریشنز، انسانی حقوق کے مسائل اور مختلف علاقوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر آزادانہ رپورٹنگ کو روکنا ہے۔ غیر ملکی رپورٹرز کو صرف تین بڑے شہروں تک محدود رکھ کر حکومت بین الاقوامی میڈیا تک پہنچنے والی معلومات کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔

غیر ملکی صحافیوں کے لیے این او سی حاصل کرنے کا طریقہ کار

پاکستان میں مقیم بین الاقوامی نمائندوں کے لیے اب سفر کی اجازت حاصل کرنا ایک پیچیدہ اور طویل دفتری عمل بن چکا ہے۔ این او سی حاصل کرنے کے لیے درج ذیل مراحل سے گزرنا ہوگا:

  1. ابتدائی درخواست: میڈیا آرگنائزیشن کے آفیشل لیٹر ہیڈ پر وزارت اطلاعات کے ایکسٹرنل پبلسٹی (EP) ونگ کو باقاعدہ درخواست جمع کرائیں۔
  2. سفر کی تفصیلات: روزانہ کی بنیاد پر سفر کا شیڈول، ہوٹل بکنگ، ٹرانسپورٹ کی تفصیلات اور جن افراد کے انٹرویو کرنے ہیں ان کے نام فراہم کریں۔
  3. سیکیورٹی کلیئرنس: ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ یہ درخواست وزارت داخلہ اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو پس منظر کی جانچ کے لیے بھیجے گا۔
  4. منظوری یا مسترد ہونا: کلیئرنس ملنے کے بعد وزارت کی جانب سے این او سی جاری کیا جائے گا، جسے سفر کے دوران اپنے پاس رکھنا لازمی ہوگا۔

اس پورے عمل میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے کسی ہنگامی خبر کی کوریج کے لیے فوری طور پر بڑے شہروں سے باہر جانا ناممکن ہو جائے گا۔

صحافتی تنظیموں کا ردعمل اور تشویش

حکومت کے اس فیصلے پر مقامی اور بین الاقوامی میڈیا واچ ڈاگز کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) اور پاکستان پریس فاؤنڈیشن (PPF) نے ملک میں میڈیا پر بڑھتی ہوئی پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انتظامی رکاوٹیں آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کے تحت حاصل آزادی اظہار رائے اور معلومات تک رسائی کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

بلوچستان، خیبر پختونخوا اور دیہی سندھ جیسے علاقوں تک رسائی کو محدود کر کے حکومت درحقیقت 'معلومات کے بلیک ہول' پیدا کر رہی ہے۔ بین الاقوامی نمائندے مقامی مسائل، جیسے دیہی سندھ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور گوادر میں ترقیاتی منصوبوں پر عالمی توجہ مبذول کرانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی نقل و حرکت محدود کرنے سے یہ اہم موضوعات عالمی منظر نامے سے غائب ہو جائیں گے۔

ایک مقامی پریس کلب کے سینئر نمائندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ بالواسطہ سنسرشپ نافذ کرنے کا طریقہ ہے۔ اگر گوادر یا پشاور میں کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے، تو کوئی غیر ملکی رپورٹر فوری وہاں نہیں جا سکتا۔ جب تک این او سی ملے گا، خبر پرانی ہو چکی ہوگی۔"

میڈیا پروفیشنلز کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ ایک بین الاقوامی نمائندے، فکسر یا مقامی پروڈیوسر ہیں جو غیر ملکی میڈیا کے ساتھ کام کر رہے ہیں، تو ویزا کی منسوخی یا ملک بدری جیسے مسائل سے بچنے کے لیے ان ہدایات پر عمل کریں:

  • پہلے سے منصوبہ بندی کریں: کسی بھی سفر کی فوری منصوبہ بندی نہ کریں۔ اپنے سفر کی تاریخ سے کم از کم 20 دن پہلے درخواست جمع کرائیں۔
  • دستاویزات ساتھ رکھیں: