اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے آنے والے مالی سال کے لیے ملک بھر میں ترقیاتی منصوبوں پر کڑی ضرب لگاتے ہوئے ایک بار پھر ایک ٹریلین روپے کے ترقیاتی فنڈز کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی طرف سے 12 مئی 2027 کو اعلان کردہ اس سخت مالیاتی اقدام کے تحت تمام غیر ضروری سرکاری ترقیاتی کاموں کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ جاری منصوبوں کے فنڈز کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔ عام شہریوں، مقامی کاروباری افراد اور ٹھیکیداروں کے لیے جو سرکاری پراجیکٹس سے وابستہ ہیں، اس اچانک فیصلے کا مطلب فنڈز کی ادائیگی میں تاخیر، بند پڑنے والی تعمیراتی سائیٹس اور معاشی سرگرمیوں میں سست روی ہے۔

نیا بجٹ 2027 کے تحت نظرثانی شدہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) فریم ورک کے مطابق، کل ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے تاکہ قرضوں کی ادائیگی اور آئی ایم ایف کے مقرر کردہ مالیاتی اہداف کو پورا کیا جا سکے۔ ان تمام ٹھیکیداروں اور سپلائرز کو جو اپنے پروجیکٹس کی ادائیگیوں کے منتظر ہیں، اب پلاننگ کمیشن کی جانب سے بیوروکریٹک جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ منظور شدہ منصوبوں کی اصل صورتحال یا کٹوتیوں کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ افراد وزارت منصوبہ بندی کی آفیشل ویب سائٹ www.mopdr.gov.pk پر جا سکتے ہیں۔

اہم تفصیلات

- اعلان کی تاریخ: 12 مئی 2027
- روکے گئے فنڈز کی مالیت: 1 ٹریلین روپے (PSDP ترقیاتی فنڈز)
- مقام: اسلام آباد (پورے ملک کے لیے قابل اطلاق)
- آفیشل پورٹل: www.mopdr.gov.pk
- آخری تاریخ / جائزہ: متاثرہ منصوبوں کا جائزہ 30 جون 2027 تک مکمل کیا جائے گا

کاروبار اور مقامی مارکیٹوں پر اثرات

ترقیاتی فنڈز کی یہ بندش اسٹیল، سیمنٹ، ٹرانسپورٹ اور تعمیراتی شعبوں کے لیے شدید دھچکا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) جو بڑے وفاقی اور صوبایی پراجیکٹس میں ذیلی ٹھیکیدار کے طور پر کام کرتے ہیں، کیش فلو کے شدید بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ سرکاری طلب میں کمی کی وجہ سے لاہور، کراچی اور فیصل آباد کے مٹیریل سپلائرز اپنی پیداواری صلاحیت کم کرنے پر مجبور ہیں، جس سے بے روزگاری اور تجارتی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں مندی کا خدشہ ہے۔

مزید برآں، علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے، دیہی بجلی کے منصوبے اور سڑکوں کے نیٹ ورکس غیر معینہ مدت تک تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں۔ اگرچہ وزارت کا کہنا ہے کہ اہم اسٹریٹجک کوریڈورز کے فنڈز بحال رہیں گے، لیکن کیپیتال اخراجات کی سخت راشننگ کا مطلب یہ ہے کہ نجی شعبے کے سرمایہ کار بھی نئی سرمایہ کاری سے پہلے محتاط رویہ اختیار کریں گے۔

پروجیکٹ کا اسٹیٹس چیک کرنے اور ریلیف کا طریقہ

ٹھیکیداروں، ڈویلپرز اور شہریوں کو جو متاثرہ سرکاری کاموں کے حوالے سے مصدقہ اپ ڈیٹس چاہتے ہیں، انہیں حکومتی ذرائع پر انحصار کرنا ہوگا۔ حکومت تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نظرثانی شدہ شیڈول اور ادائیگیوں کی قطاروں کو شفافیت پورٹل پر اپ لوڈ کریں۔

  • مرحلہ 1: آفیشل ویب سائٹ www.mopdr.gov.pk پر جائیں۔
  • مرحلہ 2: 'Naya Budget 2027 PSDP Dashboard' کے سیکشن پر کلک کریں۔
  • مرحلہ 3: نظرثانی شدہ فنڈز کی حدود اور ادائیگی کے ٹائم لائنز دیکھنے کے لیے اپنے پروجیکٹ کا کوڈ یا سیکٹر کا نام درج کریں۔
  • مرحلہ 4: باضابطہ شکایات یا ادائیگیوں کے تصدیقی سوالات کے لیے، رجسٹرڈ وینڈرز 30 جون 2027 کی آخری آڈٹ تاریخ سے پہلے وزارت کے ہیلپ ڈیسک سے رابطہ کریں۔

جیسے جیسے مالی سال آگے بڑھ رہا ہے، معاشی ماہرین کا انتباہ ہے کہ اگرچہ قلیل مدت میں مالیاتی نظم و ضبط میکرو اکنامک استحکام کے لیے ضروری ہے، لیکن ترقیاتی اخراجات میں طویل کٹوتی پاکستان بھر میں طویل مدتی ترقی اور روزگار کے مواقع کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔