وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے قریب مارگلہ کی پہاڑیوں میں واقع تاریخی شاہ اللہ دتہ غاروں کو جدید سہولتوں سے آراستہ کر کے ایک عالمی معیار کا ورثہ مقام بنانے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ صدیوں پرانی یہ غاریں تاریخ اور بالخصوص بدھ مت کے آثار کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتی ہیں، لیکن طویل عرصے سے سرکاری عدم توجہی کا شکار تھیں۔

سیاحت کے فروغ کے لیے نئے اقدامات

ان قدیم غاروں پر آنے والے سیاحوں کو طویل عرصے سے بنیادی سہولتوں کی کمی اور راستوں کی خرابی کا سامنا تھا۔ نئے ترقیاتی منصوبے کے تحت یہاں واکنگ ٹریلز، حفاظتی باڑ، معلوماتی بورڈز اور غاروں کے ارد گرد مناسب لائٹنگ کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ حکام کا مقصد اس تاریخی مقام کو ایک منظم ثقافتی مرکز میں تبدیل کرنا ہے جہاں ملکی اور غیر ملکی سیاح بغیر کسی دشواری کے آ سکیں۔

ماسٹر پلان میں کیا شامل ہے؟

مختلف متعلقہ محکمے اس منصوبے کے پہلے مرحلے پر کام کر رہے ہیں، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • غاروں کے مرکزی حصے سے دور گاڑیوں کے لیے پارکنگ کا الگ انتظام تاکہ شور اور آلودگی کم ہو۔
  • تاریخی نوادرات کی نمائش کے لیے ایک چھوٹا میوزیم اور معلوماتی مراکز۔
  • سیاحوں کے لیے واش رومز، بیٹھنے کی جگہیں اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات۔
  • ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے مقامی پودوں کے ساتھ شجرکاری۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ راولپنڈی یا اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ویک اینڈ پر وہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ تعمیراتی کام کے دوران کچھ راستے عارضی طور پر بند ہو سکتے ہیں۔ غاروں کے قدیم پتھروں اور دیواروں کو چھونے یا نقصان پہنچانے سے گریز کریں کیونکہ اب یہاں سختی کی جا رہی ہے۔

آگے کیا توقع کی جائے؟

آنے والے مہینوں میں اس منصوبے کے باقاعدہ ٹینڈرز اور ماحولیاتی اثرات کی رپورٹس سامنے آئیں گی۔ ماہرین اور تاریخ دان اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ ترقیاتی کام کے دوران اس تاریخی مقام کی اصل حالت کو نقصان نہ پہنچے۔