حکومت پاکستان کی جانب سے پینشنرز کے لیے ڈیجیٹل پروف آف لائف کا نیا نظام جمعرات 13 اگست 2026 کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پینشنرز کو بینکوں اور سرکاری دفاتر کے چکروں سے نجات دلانا اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کو گھر بیٹھے ممکن بنانا ہے۔

ڈیجیٹل پروف آف لائف کی تکنیکی تفصیلات

یہ سسٹم نادرا (NADRA) کے ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک ہے اور چہرے کی شناخت (facial recognition) کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔ پینشنرز اب اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے اپنی زندگی کا ثبوت دے سکیں گے۔ اس نظام کا مقصد پینشن کی ادائیگیوں میں شفافیت لانا اور فرضی دعووں کو روکنا ہے۔ 13 اگست 2026 کو جب یہ پورٹل فعال ہوگا، تو صارفین کو ایک مخصوص ایپ یا ویب لنک کے ذریعے اپنی تصدیق کرنی ہوگی۔

اخراجات اور رسائی

یہ سروس پینشنرز کے لیے مکمل طور پر مفت ہے۔ تاہم، اس کے لیے ایک اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کنکشن کی ضرورت ہوگی۔ جن افراد کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہے، وہ ای-سہولت مراکز (E-Sahulat centers) کے ذریعے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کے پاس جدید ٹیکنالوجی نہیں ہے، تب بھی آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ سرکاری مراکز آپ کی مدد کے لیے موجود رہیں گے۔

کیا یہ نظام فائدہ مند ہے؟

  • فوائد: سفری اخراجات کی بچت، بزرگ شہریوں کی جسمانی مشقت میں کمی، اور بینکوں میں لمبی قطاروں سے نجات۔
  • نقصانات: ابتدائی مراحل میں تکنیکی خرابیوں کا خدشہ، اور ٹیکنالوجی سے نابلد افراد کے لیے اسے سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں، جہاں پینشنرز کو کئی گھنٹے بینک میں کھڑے ہونا پڑتا تھا، یہ ایک جدید اور آسان متبادل ہے۔ اگر سسٹم درست طریقے سے کام کرتا ہے، تو یہ بزرگ شہریوں کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اپنا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) اور بینک اکاؤنٹ سے منسلک موبائل نمبر تیار رکھیں۔ 13 اگست 2026 کو سرکاری ویب سائٹس پر جاری ہونے والی ہدایات کا انتظار کریں۔ کسی بھی غیر تصدیق شدہ ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں تاکہ آپ کا ڈیٹا محفوظ رہے۔

مستقبل پر نظر

حکومت کی جانب سے ہیلپ لائن نمبر جاری کیے جانے کی توقع ہے تاکہ تکنیکی مشکلات کی صورت میں رہنمائی مل سکے۔ اگر آپ کو ڈیجیٹل عمل مشکل لگے، تو لانچ کے چند دن بعد تک انتظار کریں تاکہ سسٹم مکمل طور پر مستحکم ہو جائے۔