گوادر سیف سٹی پراجیکٹ نے اپنی تعمیراتی پیش رفت میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے، جس کے تحت شہر کے حساس اور مصروف ترین مقامات پر زیر زمین کیبلنگ اور سکیورٹی کیمروں کے لیے کھمبوں کی تنصیب مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ اقدام شہر میں جدید نگرانی کے نظام کو فعال کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

گوادر سیف سٹی پراجیکٹ کی پیش رفت

حکومت بلوچستان کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ شہر بھر میں فائبر آپٹک اور پاور کیبلز بچھانے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ زیر زمین کیبلنگ کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے تاکہ سکیورٹی نیٹ ورک کو موسمی اثرات اور کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اہم چوکوں اور داخلی راستوں پر نصب کیے گئے یہ کھمبے مستقبل میں جدید کیمروں اور نگرانی کے آلات کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھیں گے۔

مقامی رہائشیوں اور کاروباری طبقے کے لیے یہ منصوبہ شہر کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہے تاکہ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنایا جا سکے، جرائم کی روک تھام ہو سکے اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

مقامی سکیورٹی پر اثرات

گوادر کی تزویراتی اہمیت اور سی پیک منصوبے کے مرکز ہونے کے ناطے، یہاں سکیورٹی کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ سیف سٹی اقدام کے ذریعے حکومت ایک ڈیجیٹل حفاظتی حصار قائم کرنا چاہتی ہے، جس سے ان علاقوں کی نگرانی ممکن ہو سکے گی جہاں روایتی پٹرولنگ مشکل تھی۔ جدید نگرانی کے ذریعے مقامی شہریوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔

اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

کیبلنگ اور کھمبوں کی تنصیب کے بعد، اب اگلا مرحلہ کیمروں کی تنصیب اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کا قیام ہے۔ حکام اس وقت سسٹم کی تکنیکی جانچ پڑتال پر کام کر رہے ہیں تاکہ ویڈیو فیڈز کو مرکزی نظام سے مربوط کیا جا سکے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس منصوبے کے اگلے مراحل اور سکیورٹی نیٹ ورک کی آزمائش کے حوالے سے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں، کیونکہ یہ منصوبہ جلد ہی مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔