پاکستان کے مشہور انقلابی شاعر حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ حبیب جالب کو دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے لاہور کی سڑکوں پر گھر کا بنا ہوا کھانا فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ حبیب جالب نے اپنی پوری زندگی آمریت، طبقاتی ناانصافی اور جبر کے خلاف شاعری کرتے ہوئے گزاری، لیکن آج ان کے گھر والوں کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔
ریڑھی لگانے کی تلخ حقیقت
طاہرہ حبیب جالب نے لاہور میں گھر کا تیار کردہ کھانا فروخت کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی ریڑھی لگائی ہے۔ یہ صورتحال ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام شہریوں کو درپیش معاشی مسائل کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ادبی و ثقافتی ورثہ چھوڑنے والوں کے لواحقین بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
سیاسی رہنما اکثر جلسوں میں حبیب جالب کے اشعار پڑھ کر داد سمیٹتے ہیں، لیکن عملی طور پر ان کے اہل خانہ کی مالی معاونت کے لیے کوئی مستقل نظام موجود نہیں۔ حکومتی ادارے اور ادبی کونسلز وقتی اعامانات تو کرتی ہیں مگر اس سے خاندان کے مالی حالات بہتر نہیں ہوتے۔
عوامی ردعمل اور ریاستی ذمہ داری
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور شہری حکومت سے سوال کر رہے ہیں کہ ثقافتی شخصیات کے اہل خانہ کو بے یارومددگار کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
- عوامی ردعمل: شہریوں کی جانب سے سیاسی رہنماؤں کے دوہرے معیار پر تنقید کی جا رہی ہے۔
- پالیسی کا فقدان: ادبی شخصیات کے خاندانوں کے لیے مستقل فنڈز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
اگر آپ لاہور میں ہیں تو طاہرہ حبیب جالب کے ہاں جا کر ان کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ حکام سے بھی مطالبہ کیا جانا چاہیے کہ وہ اس خاندان کی فلاح و بہبود کے لیے فوری اقدامات کریں۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
یہ دیکھنا باقی ہے کہ پنجاب حکومت یا ثقافتی وزارتیں اس معاملے پر کیا نوٹس لیتی ہیں، کیونکہ عوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
