گزشتہ ہفتے کراچی کی سندھ ہائی کورٹ کے باہر ایک وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ ریپ کے مقدمات میں اب 'ہاف فرائی' اور 'فل فرائی' جیسی اصطلاحات عام ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ الفاظ جنسی تشدد کی شدت کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ 'ہاف فرائی' کا مطلب کم شدت کا حملہ ہے جبکہ 'فل فرائی' کا مطلب زیادہ سنگین حملہ ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے اب تک ان اصطلاحات کو کسی فیصلے میں واضح نہیں کیا ہے لیکن ان کا استعمال کھلے عدالتی ریکارڈ میں رپورٹ ہوا ہے جس سے قانونی ماہرین اور خواتین کے حقوق کے کارکن پریشان ہیں۔

ان اصطلاحات کا پہلا ذکر 2024 میں حیدرآباد کے ایک کیس میں سامنے آیا جہاں ایک وکیل نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ کو 'ہاف فرائی' کا سامنا کرنا پڑا۔ سرکاری وکیل نے اس کا اعتراض کیا اور اسے جنسی تشدد کو ہلکا کرنے کی کوشش قرار دیا۔ جج نے اس تبصرے کو ریکارڈ سے خارج نہیں کیا لیکن اس کی تائید بھی نہیں کی۔ تب سے کراچی اور سکھر کے کم از کم تین دیگر ریپ کے مقدمات میں وکلاء نے ان اصطلاحات کا استعمال کیا ہے، جیسا کہ عدالتی مبصرین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔

  • کہاں ہو رہا ہے: سندھ ہائی کورٹ (کراچی، حیدرآباد، سکھر بینچ)
  • کب شروع ہوا: پہلی بار 2024 میں حیدرآباد کے کیس میں رپورٹ ہوا، اب 2025 میں متعدد مقدمات میں استعمال
  • کس نے استعمال کیا: دفاعی وکلاء، کبھی کبھی سرکاری وکلاء اور جج بھی
  • کیا ظاہر کرتا ہے: جنسی تشدد کی ایک درجہ بندی جو پاکستان کے فوجداری قانون میں موجود نہیں

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اصطلاحات جنسی تشدد کو ایک درجہ بندی دینے کی کوشش ہے جو پاکستان کے قانوںِ جرائم (2016) میں موجود نہیں۔ اس قانون کے تحت ریپ کی تعریف ایک ہی ہے - رضامندی کے بغیر دخول - اور سزا بھی ایک ہی ہے یعنی سزائے موت یا عمر قید۔ تشدد کی شدت یا چوٹوں کی نوعیت کے لحاظ سے کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی۔

یہ اصطلاحات کیوں پھیل رہی ہیں

'ہاف فرائی' اور 'فل فرائی' کی اصطلاحات کا استعمال سندھ کی زیریں عدالتوں سے شروع ہو کر ہائی کورٹ تک پہنچا ہے۔ دفاعی وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ اصطلاحات انھیں سزا میں کمی کا حجت دینے میں مدد دیتی ہیں۔ ایک وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا: "اگر متاثرہ کو ظاہری چوٹیں نہ آئی ہوں تو ہم 'ہاف فرائی' کہتے ہیں۔ یہ عدالت کو یہ بتانے کا ایک طریقہ ہے کہ نقصان زیادہ نہیں تھا۔"

سرکاری وکلاء اور خواتین کے حقوق کے کارکن اس framing کی تردید کرتے ہیں۔ کراچی کی وکیل اور خواتین کے حقوق کی کارکن مہوش بانو نے ان اصطلاحات کو متاثرہ کی عزت کا نقصان قرار دیا۔ انھوں نے کہا: "ریپ ریپ ہے۔ کوئی 'ہاف' یا 'فل' ورژن نہیں ہوتا۔ یہ زبان متاثرہ کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ان کا دکھ کم اہم ہے۔"

قانون کیا کہتا ہے

پاکستان کا قانوںِ جرائم (2016) ریپ کی کوئی درجہ بندی نہیں کرتا۔ دفعہ 376(1) کے تحت:

  • سزا: سزائے موت یا عمر قید، جرمانے کے ساتھ
  • شوہد: طبی ثبوت یا دو گواہوں کی گواہی درکار
  • کوئی درجہ بندی نہیں: قانون تمام دخولی حملوں کو یکساں سنگین سمجھتا ہے

خواتین کے خلاف ہراسانی کے خاتمے کا قانون 2010 اور پنجاب خواتین تحفظ قانون 2016 بھی جنسی تشدد کو ایک سنگین جرم قرار دیتے ہیں۔ تاہم 'ہاف فرائی' اور 'فل فرائی' کی اصطلاحات سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ وکلاء قانون میں درجہ بندی لانے کی کوشش کر رہے ہیں جو قانون میں موجود نہیں۔

اگلا کیا ہوگا

سندھ ہائی کورٹ نے ابھی تک ان اصطلاحات پر کوئی ہدایت جاری نہیں کی ہے۔ تاہم سندھ خواتین کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک خط لکھ کر سرکاری وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کی چیئرپرسن شہناز وزیر علی نے کہا: "ہم نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ ایسے الفاظ کے استعمال پر پابندی کا ایک طریقہ کار جاری کرے۔". کمیشن نے سندھ بار کونسل کو بھی وکلاء کو اس زبان کے استعمال سے آگاہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

دریں اثنا، وفاقی وزارت قانون و انصاف نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جب رابطہ کیا گیا تو ایک ترجمان نے صرف یہ کہا: "ہم اس رپورٹ سے آگاہ ہیں۔ معاملہ زیر غور ہے۔"

آپ کیا کر سکتے ہیں

اگر آپ سندھ میں ریپ کے کسی مقدمے سے متعلق ہیں تو:

  • عدالتی ریکارڈ کی کاپی حاصل کریں اگر ان اصطلاحات کا استعمال ہو رہا ہو۔ سندھ ہائی کورٹ کے ریکارڈ کے لیے کراچی، حیدرآباد یا سکھر کے رجسٹری میں درخواست دیں۔ فی صفحہ پانچ روپے کا خرچ ہے۔
  • عدالت میں تحریری اعتراض کریں اگر یہ اصطلاحات استعمال ہوں۔ جج سے درخواست کریں کہ ایسے تبصرے شہادت کے قانون 1984 کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ سے خارج کیے جائیں جو غیر متعلقہ یاPrejudicial تبصرے خارج کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
  • سندھ خواتین کمیشن کو رپورٹ کریں اگر یہ زبان بار بار استعمال ہو رہی ہو۔ ای میل: info@sindhwomencommission.gov.pk یا کال کریں 021-99213344۔
  • قانونی مدد حاصل کریں تنظیموں جیسے War Against Rape (WAR) یا Aurat Foundation سے۔ ان کی ہیلپ لائنیں 24/7 کام کرتی ہیں: WAR: 021-35682770، آurat فاؤنڈیشن: 021-35683014۔

کیا دیکھنا ہے

  • سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ: جلد ہی یہ طے ہوگا کہ آیا عدالت ان اصطلاحات کے استعمال پر پابندی کا حکم جاری کرتی ہے۔
  • بار کونسل کی آگہی: سندھ بار کونسل وکلاء کے لیے ورکشاپس کا اہتمام کر سکتی ہے۔
  • وفاقی ردعمل: اگر یہ مسئلہ بڑھتا ہے تو وزارت قانون و انصاف قومی سطح پر ہدایت جاری کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالتوں نے اس پر توجہ نہ دی تو یہ اصطلاحات دوسرے صوبوں میں بھی پھیل سکتی ہیں اور جنسی تشدد کی ایک خطرناک درجہ بندی کو عام کر سکتی ہیں۔ کراچی کے ایک سرکاری وکیل نے کہا: "ایک بار جب آپ ریپ کو 'ہاف فرائی' کہنا شروع کر دیتے ہیں تو آپ متاثرہ کو یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ ان کا دکھ کم اہم ہے۔ یہ ایک ایسی ڈھلوان ہے جس پر کوئی معاشرہ چڑھنا نہیں چاہے گا۔"