پاکستان ریلوے نے ہزارہ ایکسپریس ٹرین حادثہ کے بعد سخت انتظامی قدم اٹھاتے ہوئے انجن ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور کو غفلت برتنے پر فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ چند روز قبل پیش آنے والے اس واقعے میں ٹرین کا انجن اوور شوٹ کر گیا تھا اور بے قابو ہو کر پٹڑی سے اترنے کے بعد قریبی ریت میں دھنس گیا تھا۔ اس خطرناک واقعے نے مسافروں کی حفاظت اور ریلوے کے نظام پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جس پر محکمے کے اعلیٰ حکام نے فوری انکوائری کا حکم دیتے ہوئے عملے کے خلاف یہ کارروائی کی ہے۔
ہزارہ ایکسپریس حادثے کی تفصیلات
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسافر ٹرین کا انجن مقررہ حد سے آگے نکل گیا اور سگنل یا بریکنگ سسٹم میں خرابی یا انسانی غلطی کے باعث پٹڑی سے اتر گیا۔ انجن بے قابو ہو کر ریتیلے علاقے میں جا گھسا جس سے ریلوے ٹریک کو بھی نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا لیکن اس واقعے نے روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹس میں عملے کی غفلت واضح طور پر سامنے آئی ہے جس کی بنیاد پر انہیں معطل کیا گیا ہے۔
ریلوے حکام کی جانب سے کیے گئے اقدامات
- فوری معطلیاں: ذمہ دار ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور کو تمام فرائض سے ہٹا کر معطل کر دیا گیا ہے۔
- محکمانہ تحقیقات: واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو تکنیکی خرابی اور انسانی غلطی کا جائزہ لے گی۔
- حفاظتی جانچ: ملک بھر میں انجنوں کے بریک سسٹمز اور ٹریک کی حالت کا از سر نو جائزہ لینے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
مسافروں کے لیے ضروری ہدایات
اگر آپ یا آپ کے عزیز ٹرین کے ذریعے سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو روانہ ہونے سے پہلے ریلوے اسٹیشن سے ٹرینوں کی آمد و رفت کے اوقات لازمی تصدیق کر لیں۔ آپ پاکستان ریلوے کی سرکاری ویب سائٹ pakrail.gov.pk پر جا کر بھی تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی تاخیر یا شیڈول میں تبدیلی سے بچنے کے لیے سفر سے پہلے متعلقہ ہیلپ لائن یا اسٹیشن ماسٹر سے رابطہ کرنا بہتر ہوگا۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
حکام کی جانب سے اس حادثے کی مکمل تکنیکی رپورٹ آنے والے دنوں میں متوقع ہے جس سے یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ واقعہ بریک فیل ہونے کی وجہ سے پیش آیا یا عملے کی غفلت کارفرما تھی۔ وزارت ریلوے پر مسافروں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے پرانے سگنلنگ سسٹمز کو اپ گریڈ کرنے اور ڈرائیوروں کی تربیت بہتر بنانے کے لیے شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اس انکوائری کے نتیجے میں مزید سخت انتظامی فیصلے متوقع ہیں۔
