ملتان میں حضرت امام حسن علیٰ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا 28 صفر 1446 ہجری (28 اگست 2025) کو ہزاروں افراد نے عقیدت و احترام کے ساتھ جلوس، نماز اور مذہبی اجتماعات کے ذریعے اظہار عزاداری کیا۔ شہر کی شیعہ برادری نے شاہ شمس الدین گیلانی کے مزار سمیت دیگر مساجد میں خصوصی نمازوں، قرآن خوانی اور سیرت کے اجتماعات کا اہتمام کیا۔

صبح سویرے سے ہی خصوصی نمازوں اور قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ دن کا آغاز ہوا۔ ہزاروں عزاداروں نے شہر کی گلیوں اور سڑکوں پر کئی کلومیٹر طویل جلوس نکالے، جن میں سیاہ جھنڈے، امام حسن رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت کے نام کے بینرز اور "یا حسن! یا حسین!" کے نعرے بلند کیے گئے۔ مذہبی علما نے امام حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی، قربانیوں اور تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے امن اور اتحاد کے پیغام کو اجاگر کیا۔

  • اہم مقامات: شاہ شمس الدین گیلانی مزار، جامع مسجد غوثیہ اور ملتان کی دیگر بڑی مساجد۔
  • شرکاء کی تعداد: پانچ ہزار سے زائد عزاداروں نے شرکت کی، جن میں مقامی رہنما اور کمیونٹی نمائندے بھی شامل تھے۔
  • تحفظ کے انتظامات: پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ انتظامات کئے گئے، جن کے دوران کوئی غیر معمولی واقعہ رپورٹ نہیں کیا گیا۔

حضرت امام حسن علیٰ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن اسلامی قمری کیلنڈر کے مطابق 28 صفر کو منایا جاتا ہے، جو اس سال 28 اگست 2025 کو پڑا۔ یہ دن پاکستان بھر میں توحید و عزاداری کے ساتھ منایا جاتا ہے، لیکن ملتان کے جلوس اپنی وسعت اور تاریخی اہمیت کے باعث نمایاں ہیں۔

مذہبی وعظوں میں امام حسن رضی اللہ عنہ کے پیغام پر زور

ملتان کے مذہبی علما نے امام حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی کو صبر، معافی اور مصالحت کا نمونہ قرار دیتے ہوئے ان کی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے امام حسن رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سیاسی تنازعات کے حل کے لیے ان کے امن پسندانہ اقدامات، خاص طور پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے معاہدے کا ذکر کیا، جس نے مسلمانوں کے درمیان مزید خونریزی کو روکا۔ وعظوں میں امام حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کی کہانی بھی سنائی گئی، جو ان کی بیوی کے بھائی نے زہر دے کر کی تھی۔

  • تعلیمات پر زور: اتحاد کی اہمیت، مصیبت میں صبر، اور سیاسی اختلافات کے خطرات پر گفتگو۔
  • عزاداروں کا ردعمل: بہت سے شرکاء نے امام حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے ذاتی اور معاشرتی زندگیوں میں ان کے اصولوں پر عمل کرنے کا عہد کیا۔

ملتان میں جلوس اور عزاداری کے مناظر

ملتان کے جلوس شاہ شمس الدین گیلانی مزار سے شروع ہو کر شہر کے قدیم بازاروں، جن میں چوک فووارہ اور بوہر گیٹ شامل ہیں، سے گزرتے ہوئے اختتام پذیر ہوئے۔ عزاداروں نے امام حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کی یاد میں تابوت کی نقالیاں (تعزیہ) اٹھائی اور ان کی یاد میں مرثیے پڑھے۔ ماحول غمگین تھا اور بہت سے افراد سینے کوبھونکتے ہوئے عزاداری میں شامل ہوئے۔

  • اہم جلوس: مرکزی جلوس صبح دس بجے شروع ہوا اور پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد مزار پر اختتام پذیر ہوا۔
  • تحفظ کے انتظامات: ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی نفری لگی، جن میں ایلیٹ فورس اور کوئیک ریسپانس فورس بھی شامل تھیں۔
  • ٹریفک میں خلل: کئی گھنٹوں تک سڑکیں بند رہیں، اور آمد و رفت کے لیے متبادل راستے بتائے گئے۔

آپ کو اس دن کیا کرنا چاہیے

اگر آپ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن کو منانے میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو:

  • مقامی اجتماعات میں شرکت کریں: اپنے قریبی مساجد یا امام بارگاہوں میں نماز اور وعظ کے اجتماعات میں شرکت کریں۔
  • ان کی سیرت پڑھیں: ان کی زندگی اور تعلیمات کے بارے میں کتابیں پڑھیں یا ان کی سیرت پر لیکچرز سنیں۔
  • اتحاد پر غور کریں: اس دن کو اپنے معاشرے میں امن اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے استعمال کریں، ان کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے۔

جو لوگ جلوسوں میں شرکت نہیں کر سکے، ان کے لیے ملتان اور دیگر شہروں کی مساجد اور امام بارگاہوں میں وعظوں کا لائیو نشریات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مقامی ذرائع سے نشریات کے اوقات معلوم کریں۔

آنے والے واقعات پر نظر رکھیں

  • آئندہ پروگرام: آنے والے مہینوں میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن منایا جائے گا، جس کے لیے بڑے جلوسوں کا اہتمام کیا جائے گا۔
  • برادری کے اقدامات: مقامی تنظیمیں امام حسن رضی اللہ عنہ کے نام پر رفاہی مہموں یا خیراتی پروگراموں کا اعلان کر سکتی ہیں۔
  • تحفظ کے اپ ڈیٹس: حکام مذہبی اجتماعات کے لیے مستقبل میں ہدایات جاری کر سکتے ہیں، اس لیے سرکاری ذرائع سے باخبر رہیں۔

حضرت امام حسن علیٰ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن کی مناسبت سے ملتان میں منعقد ہونے والے اجتماعات پاکستان میں اہل بیت سے وابستگی کی گہری روحانی جڑوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ دن غم و ماتم کا ہے، لیکن ساتھ ہی امام حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی سے ملنے والے صبر، معافی اور اتحاد کے پیغام کی بھی یاد دلاتا ہے۔