اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور میں ہونے والی موسلادھار بارش نے طویل عرصے سے جاری گرمی کا زور توڑ دیا اور موسم کو خوشگوار بنا دیا، تاہم نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

موسم کی اس اچانک تبدیلی نے تینوں بڑے شہروں میں حبس کا خاتمہ کر دیا۔ لاہور میں سب سے زیادہ بارش شاد پورہ کے علاقے میں ریکارڈ کی گئی جہاں پی ایم ڈی کے مطابق 51.2 ملی میٹر پانی برسا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی بادل کھل کر برسے جس کے نتیجے میں جڑواں شہروں کے کئی ندی نالوں میں طغیانی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ راولپنڈی میں مشہور نالہ لئی میں پانی کا بہاؤ خطرے کے نشان تک پہنچ گیا جس کے بعد متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا گیا۔

بجلی کا نظام اور فیڈرز ٹرپ

بارش کا یہ طاقتور سلسلہ شہری انفراسٹرکچر کو سنبھال نہ سکا۔ برقی رو کی فراہمی برقرار رکھنے والے متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے جس کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔ لاہور کے مختلف حصوں میں بھی بجلی کی بندش سے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ بجلی کی بحالی کا کام بارش تھمنے کے بعد شروع کیا گیا۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کا تعلق نشیبی علاقوں سے ہے یا آپ نالہ لئی کے قریب رہائش پذیر ہیں، تو محتاط رہیں اور ضروری سامان محفوظ مقام پر منتقل کریں۔ زیر آب آنے والی سڑکوں اور انڈر پاسز سے بلا ضرورت گزرنے سے گریز کریں۔ بجلی کے کھمبوں اور ٹوٹے ہوئے تاروں سے دور رہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

محکمہ موسمیات کی آئندہ کی پیشگوئی پر نظر رکھیں کیونکہ مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ واسا اور میونسپل کارپوریشنز کی جانب سے نکاسی آب کے عمل اور بجلی بحالی کی تازہ ترین رپورٹوں سے باخبر رہیں۔