حیدرآباد میں حالیہ شدید بارشوں نے صنعتی سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جہاں پہلے ہی بلند نرخوں اور مہنگائی سے پریشان کارخانہ داروں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ شہر کا مرکزی صنعتی مرکز، سائیٹ ایریا، خستہ حال سڑکوں، تباہ شدہ نکاسی آب کے نظام اور طویل بجلی کے تعطل کی وجہ سے پیداواری عمل کی شدید معطلی کا سامنا کر رہا ہے۔ فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت ناممکن ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے خام مال اور تیار شدہ سامان سے لدے ٹرک گھنٹوں پھنسے رہتے ہیں۔
سائیٹ ایریا کی تباہ حال بنیادی ڈھانچے کے اسباب
یہ بحران کئی دہائیوں کی انتظامی غفلت اور حالیہ موسمیاتی شدت کا نتیجہ ہے۔ حیدرآباد کے سائیٹ زون کا خستہ حال انفراسٹرکچر شدید بارشوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔ بارش ہوتے ہی نکاسی آب کے ناکافی نالے ابل پڑتے ہیں اور صنعتی گزرگاہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔ فیکٹریوں میں پانی جمع ہونے سے بھاری مشینری کو نقصان پہنچ رہا ہے اور نچلی سطح پر رکھا خام مال خراب ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ، فیڈرز کی خرابی کی وجہ سے طویل بجلی کی کٹوتی پروڈکشن لائنز کو گھنٹوں بند رکھتی ہے، جس سے پیداواری اہداف خاک میں مل رہے ہیں۔
- اندرونی سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے سے ترسیلی ٹرک رک گئے ہیں
- نکاسی آب کے نظام کے بیٹھ جانے سے یونٹس کے اندر پانی بھر گیا ہے
- بجلی کی طویل بندش نے پیداواری عمل کو روک دیا ہے
- خام مال اور تیار شدہ سامان کو پانی سے نقصان پہنچا ہے
مزدوروں اور تجارت پر فوری اثرات
مینوفیکچرنگ میں اس سست رو روی کے مقامی مزدور طبقے اور وسیع تر تجارتی نیٹ ورک پر براہ راست اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو شفٹیں معطل ہونے کی وجہ سے مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ دریں اثنا، تجارتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ آرڈرز کی ترسیل میں تاخیر سے بھاری مالی جرمانے اور برآمدی معاہدے منسوخ ہو سکتے ہیں۔ کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ میونسپل حکام نے مون سون سے پہلے نالوں کی صفائی نہیں کی، جس کی وجہ سے کارخانے اربن فلڈنگ کی زد میں آ گئے ہیں۔
فیکٹری مالکان اور مزدوروں کو کیا کرنا چاہیے
آپ کو انشورنس کے دعووں یا ٹیکس ریلیف کے حصول کے لیے بنیادی ڈھانچے کے نقصان اور سامان کی بربادی کا فوری ریکارڈ تیار کرنا چاہیے۔ فیکٹری انتظامیہ کو حیدرآباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے توسط سے مقامی بلدیاتی اداروں سے ہنگامی بنیادوں پر پانی نکالنے والی مشینری کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ اچانک شفٹیں بند ہونے سے متاثر ہونے والے مزدوروں کو حفاظتی ہدایات اور متبادل نظام کے لیے فیکٹری انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہنا چاہیے۔
حیدرآباد میں آگے کیا دیکھنا ہے
آئندہ چند روز کے دوران سائیٹ انڈسٹری زون میں میونسپل اداروں کی صفائی کی کارروائیوں پر گہری نظر رکھیں۔ صنعتی فیڈرز پر بجلی کی بحالی کے شیڈول اور سندھ میں بارش سے متاثرہ کاروباروں کے لیے کسی بھی خصوصی ریلیف پیکج کے اعلانات کا انتظار کریں۔
