بیروت میں منگل کے روز حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت اور لبنانی وزیر اعظم کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات پر سخت سیاسی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ روم میں جاری ان سفارتی رابطوں نے اس بات پر شدید گھریلو تقسیم کو ظاہر کیا ہے کہ لبنان کو اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران مذاکرات کا کون سا راستہ اپنانا چاہیے۔

اس سفارتی تنازعے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- بیان کا دن: منگل، 10 فروری 2026۔
- مذاکرات کا مقام: روم، اٹلی۔
- مرکزی شخصیات: حزب اللہ کے سربراہ اور لبنانی وزیر اعظم۔
- بنیادی اختلاف: اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی قانونی حیثیت۔

حزب اللہ کا روم مذاکرات سے انکار

حزب اللہ کے سربراہ نے منگل کے روز اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت لبنان کے لیے شرم اور ذلت کے سوا کچھ نہیں لائے گی۔ مسلح گروپ کے نزدیک اسرائیل کے ساتھ کوئی بھی سفارتی راستہ قومی خودمختاری کو کمزور کرتا ہے اور جارحیت کی حوصلہ شکنی کے بجائے اسے تقویت دیتا ہے۔

یہ سخت موقف حزب اللہ کی اس پرانی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس سے براہ راست بات کرنے سے انکار کرتا ہے۔ قیادت کا اصرار ہے کہ عسکری ڈیٹرنس ہی وہ واحد زبان ہے جسے دشمن سمجھتا ہے۔

لبنانی وزیر اعظم کا سفارتی رابطوں کا دفاع

دوسری جانب لبنانی وزیر اعظم نے جوابی وار کرتے ہوئے حزب اللہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے سخت موقف کے ذریعے دراصل اسرائیل کی مدد کر رہی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ روم میں ہونے والی منظم بات چیت سے گریز کرنا لبنان کو مزید تنہا کر رہا ہے اور بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کا موقع ضائع ہو رہا ہے۔

حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ ریاست کو اپنے شہریوں کے تحفظ اور معیشت کی بحالی کے لیے تمام دستیاب سفارتی راستے استعمال کرنے چاہئیں۔

علاقائی استحکام کے لیے اس کے مضمرات

پاکستان سے مشرق وسطیٰ کے حالات پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ تنازعہ لبنانی حکومت کی کمزور ساخت کو ظاہر کرتا ہے۔ جب کوئی غیر ریاستی ادارہ اور سرکاری سربراہ خارجہ پالیسی پر علانیہ ٹکرا جائیں تو اندرونی بحران جنم لیتا ہے۔ روم میں جاری سفارتی رابطوں کے نتائج ہی ط طے کریں گے کہ لبنان کا سیاسی مستقبل کس طرف جائے گا۔ آپ کو بیروت اور روم سے آنے والی تازہ ترین خبروں کے لیے بین الاقوامی میڈیا پر نظر رکھنی چاہیے۔