31 دسمبر 1987 کو ریکارڈنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک پاکستان میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متعلقہ بیماریوں کے باعث 25 ہزار سے زائد افراد باضابطہ طور پر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ پبلک ہیلتھ کے حکام اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس المناک تعداد میں سینکڑوں ایسے معصوم بچے بھی شامل ہیں جو پیدائش کے وقت ماں سے منتقلی، غیر محفوظ خون کی منتقلی، یا دوبارہ استعمال ہونے والے طبی سرنجوں کے ذریعے وائرس کا شکار ہوئے۔

پاکستان میں ایچ آئی وی کی موجودہ صورتحال

پاکستان میں ایچ آئی وی کا بڑھتا ہوا یہ گراف ہمارے عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے میں موجود خامیوں کو واضح کرتا ہے۔ اگرچہ اموات کی مجموعی قومی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن ہزاروں افراد اس وقت بھی اس وائرس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جن میں سے بہت سوں کی تشخیص نہیں ہو سکی یا وہ معاشقے کے خوف سے علاج کروانے سے کتراتے ہیں۔ گذشتہ ایک دہائی کے دوران بڑے شہروں اور دیہی علاقوں میں بھی اس کے مقامی پھیلاؤ کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن کی بنیادی وجوہات غیر رجسٹرڈ کلینکس، بغیر سٹرلائز کیے گئے آلات اور خون کی غیر محفوظ اسکریننگ ہیں۔

ٹیسٹنگ اور بچاؤ کے حوالے سے آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کو خدشہ ہے کہ آپ کا واسطہ اس وائرس سے پڑا ہے تو بروقت ٹیسٹ کروانا آپ کا سب سے بڑا دفاع ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان بھر میں سرکاری اسپتالوں، ایڈز کنٹرول پروگرام کے مراکز اور خصوصی کلینکس میں مفت اسکریننگ اور کونسلنگ کی سہولیات دستیاب ہیں۔ بروقت تشخیص سے مریضوں کو اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) شروع کرنے میں مدد ملتی ہے، جو صوبائی محکموں کی طرف سے بالکل مفت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ علاج وائرس کو دباتا ہے، مدافعتی نظام کی حفاظت کرتا ہے اور آپ کو صحت مند زندگی گزارنے کا موقع دیتا ہے۔

اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کیسے کریں

طبی معاملات میں مسلسل احتیاط ہی بچاؤ کی ضمانت ہے۔ جب بھی آپ کو یا آپ کے کسی عزیز کو انجیکشن کی ضرورت ہو، ہمیشہ سیل بند نئی سرنج کا اصرار کریں۔ اگر آپ کو خون لگوانے کی ضرورتپیش آئے تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ بلڈ بینک رجسٹرڈ ہو اور ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی کی مکمل اسکریننگ کرتا ہو۔ صحت عامہ کے ماہرین شہریوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ غیر رجسٹرڈ عطائیوں اور غیر معیاری کلینکس کی فوری طور پر متعلقہ حکام کو شکایات کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

صوبائی ہیلتھ بجٹ میں نئے فنڈز کی تخصیص اور نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے مفت اسکریننگ کیمپوں کے اجرا پر نظر رکھیں۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں بغیر سٹرلائزڈ آلات کے علاج کرنے والے جعلی ڈاکٹروں کے خلاف سخت سزاؤں کے قانون کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔