چین کے عوامی اور کمیونٹی پر مبنی ترقیاتی ماڈل کو اپنا کر پاکستان میں شہری بحالی کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے، جس سے ملک کے بڑے شہروں کی فرسودہ انفراسٹرکچر کو بستیوں کی بربادی یا رہائشیوں کو بے دخل کیے بغیر جدید بنایا جا سکتا ہے۔
کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور کے قدیم اور گنجان آباد علاقوں پر ابادی کے شدید دباؤ کے باعث بنیادی خدمات کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ شہروں کو مکمل طور پر مسمار کرنے کے بجائے مائیکرو لیول کی مرمت، کمیونٹی کی سطح پر سہولیات کی فراہمی اور ماحولیاتی طور پر مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر سے حالت کو سنبھالا جا سکتا ہے۔
مجوزہ ترقیاتی ماڈل کے اہم نکات
- کمیونٹی سطح پر اپ گریڈنگ: پرانی بستیوں کو گرانے کے بجائے زیر زمین سیوریج، گیس اور بجلی کی تاروں کی جدید کاری۔
- موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے والا ڈیزائن: گرمی کی لہروں اور اربن فلڈنگ سے بچاؤ کے لیے گرین زونز اور نکاسی آب کا بہتر نظام۔
- مربوط توانائی کا نظام: شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج کو مقامی گرڈز کے ساتھ جوڑنا۔
- گرین فنانسنگ: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور آسان قرضوں کے ذریعے شہری بحالی کے منصوبوں کی مالی اعانت۔
قدیم بستیوں کی بے دخلی کے بغیر تزیین و آرائش
چین نے حالیہ سالوں میں مسماری کے بجائے ہدف شدہ بحالی کی پالیسی اپنائی ہے تاکہ سماجی ڈھانچہ متاثر ہوئے بغیر لوگوں کی زندگی آسان ہو سکے۔ لاہور کے اندرون شہر، راولپنڈی کے راجہ بازار اور کراچی کے لیاری جیسے علاقوں کے لیے یہ ماڈل نہایت کارآمد ہے۔
مقامی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائیں اور خالی جگہوں کو پارکوں میں تبدیل کریں۔ پاکستان میں شہری بحالی کو مؤثر بنانے کے لیے بلدیاتی اداروں کو انتظامی اور مالیاتی اختیارات دینا ضروری ہوں گے۔
توانائی کے مربوط نظام سے شہری ترقی کو جوڑنا
شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری لازمی ہے۔ ماہرین کے مطابق چین کے مربوط انرجی ماڈل کو اپنا کر پاکستان بجلی کی پیداوار، ترسیل، بیٹری اسٹوریج اور سولر پینلز کی مقامی تیاری کو ایک جامع پالیسی کے تحت یکجا کر سکتا ہے۔
اس وقت پاکستان میں بجلی کی پیداوار پر کام تو ہوتا ہے لیکن ترسیلی لائنوں کی کمی کے باعث نظام پر دباؤ رہتا ہے۔ اگر مقامی سطح پر سولر پروڈکشن اور اسٹوریج پر توجہ دی جائے تو شہروں میں سستی اور بلا تعطل بجلی ممکن ہو جائے گی۔
مقامی حکام اور شہریوں کے لیے ضروری اقدامات
- پرانے علاقوں کا سروے: بلدیاتی ادارے فوری طور پر خطرے سے دوچار گنجان آباد علاقوں کا سروے کریں۔
- سولرائزیشن کو لازمی بنانا: کمرشل مارکیٹوں اور سرکاری عمارتوں پر سولر پینلز کی تنصیب کو آسان بنایا جائے۔
- محلہ کمیٹیوں کا قیام: مقیم افراد کو انفراسٹرکچر کی نگہداشت اور شکایات کی درج بندی کے لیے بااختیار بنایا جائے۔
آگے کیا ہوگا؟
وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی اور وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس رواں برس کی دوسری سہ ماہی میں اربن رینیوول سے متعلق پالیسی گائیڈ لائنز وفاقی کابینہ کو پیش کرنے کا امکان ظاہر کر رہی ہیں۔ علاوہ ازیں، 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں بھی شہری بحالی کے لیے فنڈز کی تخصیص متوقع ہے۔
