کمبوڈیا کے شہر پوئی پیٹ سے چلنے والا ایک منظم گروہ چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کا استعمال کرتے ہوئے جعلی جاب اسکیموں اور کرپٹو کرنسی فراڈ میں ملوث پایا گیا ہے، جو پاکستانی صارفین کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

اوپن اے آئی (OpenAI) اور واٹس ایپ نے حال ہی میں اس نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے جو اے آئی سے تیار کردہ مواد کے ذریعے لوگوں کو ورغلانے میں مصروف تھا۔ یہ اسکیمرز نوکریوں کی پیشکش، رومانوی دھوکہ دہی، جوا بازی، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نقل کرتے ہوئے جعلی دستاویزات تیار کر رہے تھے۔

جعلی جاب اسکیموں سے کیسے بچیں؟

ان جعلی جاب اسکیموں کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ بہت پیشہ ورانہ لگتی ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے یہ لوگ ایسی ای میلز اور جاب ڈسکرپشن لکھتے ہیں جن میں کوئی گرامر کی غلطی نہیں ہوتی، جس سے عام آدمی دھوکہ کھا جاتا ہے۔ پاکستان میں، جہاں لوگ اکثر بین الاقوامی یا ریموٹ جابز کی تلاش میں ہوتے ہیں، یہ اسکیمرز واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں اور بھاری تنخواہ کا لالچ دے کر 'سیکیورٹی ڈپازٹ' یا 'ٹریننگ فیس' طلب کرتے ہیں۔

اگر آپ کو کسی نامعلوم بین الاقوامی نمبر سے نوکری کی پیشکش موصول ہو، تو کبھی بھی اپنی ذاتی دستاویزات شیئر نہ کریں اور نہ ہی کوئی رقم بھیجیں۔ کوئی بھی قانونی ادارہ نوکری دینے کے لیے پیشگی فیس نہیں مانگتا۔ کمپنی کی تصدیق ہمیشہ ان کی آفیشل ویب سائٹ سے کریں، واٹس ایپ پر بھیجے گئے لنکس پر کبھی بھروسہ نہ کریں۔

اے آئی فراڈ کیسے کام کرتا ہے؟

یہ گروہ اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ساتھ سینکڑوں لوگوں کو پھنسانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ جعلی ملازمت کے معاہدے اور سرکاری دستاویزات تیار کر کے انہوں نے ایک ایسا جال بُنا جو بالکل اصلی معلوم ہوتا ہے۔ خاص طور پر کرپٹو سرمایہ کاری میں، اگر کوئی آپ کو 'گارنٹیڈ منافع' کا لالچ دے، تو سمجھ لیں کہ یہ فراڈ ہے۔

  • نوکری کے نام پر کبھی بھی پروسیسنگ فیس ادا نہ کریں۔
  • کمپنی کا فزیکل آفس یا لنکڈ ان پروفائل ضرور چیک کریں۔
  • غیر مانوس نمبروں سے آنے والے پیغامات کا جواب نہ دیں۔
  • مشکوک سرگرمی کی رپورٹ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو کریں۔

آگے کیا ہوگا؟

جیسے جیسے اے آئی عام ہو رہا ہے، اسکیمرز مزید جدید طریقے اپنا رہے ہیں۔ اگر آپ کو کسی مشکوک پلیٹ فارم کا سامنا ہو تو اسے ایف آئی اے کے پورٹل https://complaint.fia.gov.pk/ پر رپورٹ کریں۔ یاد رکھیں، اگر کوئی پیشکش اتنی اچھی ہو کہ سچ نہ لگے، تو وہ یقینی طور پر ایک دھوکہ ہے۔