پھیپھڑوں کو صحت مند رکھنے کیلئے روزانہ کتنے منٹ پیدل چلنا ضروری ہے، اس کا جواب آپ کی روزمرہ کی روٹین سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی جسم کے دوسرے اعضاء کی طرح پھیپھڑے بھی کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ باقاعدہ واک یا روزانہ پیدل چلنے کی عادت اس عمل کو نہ صرف سست کرتی ہے بلکہ پھیپھڑوں کی کام کرنے کی صلاحیت کو بھی بہتر بناتی ہے۔

روزانہ کتنی واک ضروری ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کم از کم 30 منٹ کی تیز رفتار واک پھیپھڑوں کی صحت کیلئے بہترین ہے۔ جب آپ تیز قدموں سے چلتے ہیں تو آپ کا جسم آکسیجن کی زیادہ مانگ کرتا ہے۔ اس عمل سے پھیپھڑوں کے پٹھے فعال ہوتے ہیں اور ان کی گہرائی سے ورزش ہوتی ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں آلودگی کی بلند شرح کی وجہ سے پھیپھڑے پہلے ہی شدید دباؤ میں رہتے ہیں۔ ایسے میں روزانہ کی یہ آدھے گھنٹے کی واک کسی نعمت سے کم نہیں۔

پھیپھڑوں کی صحت پر واک کے اثرات

  • آکسیجن کا بہتر اخراج: پیدل چلنے سے خون میں آکسیجن کی سپلائی بہتر ہوتی ہے۔
  • قوت مدافعت میں اضافہ: پھیپھڑے مضبوط ہونے سے موسمی بیماریوں اور انفیکشنز سے لڑنے میں مدد ملتی ہے۔
  • سانس کی تنگی میں کمی: باقاعدہ واک کرنے والے افراد کو عام طور پر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سانس پھولنے کی شکایت کم ہوتی ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کی روٹین میں ورزش شامل نہیں ہے تو اچانک سے گھنٹوں واک شروع نہ کریں۔ پہلے دس منٹ سے آغاز کریں اور پھر آہستہ آہستہ وقت بڑھا کر تیس منٹ تک لے جائیں۔ کوشش کریں کہ صبح کے وقت واک کریں جب ماحول نسبتاً صاف ہوتا ہے اور آلودگی کم ہوتی ہے۔ پارکس کا رخ کریں یا اپنے محلے کی کسی پرسکون گلی کا انتخاب کریں۔ کچی مٹی یا گھاس پر ننگے پاؤں چلنا اضافی فائدہ دیتا ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

آنے والے دنوں میں صحت کے ادارے اس حوالے سے مزید آگاہی مہمات چلا سکتے ہیں، خاص طور پر سموگ کے سیزن میں۔ اپنے معالج سے مشورہ کریں اگر آپ کو پہلے ہی سانس یا پھیپھڑوں کا کوئی پرانا عارضہ لاحق ہے۔