پاکستان نے کامیابی کے ساتھ اپنے کردار کو نئے سرے سے متعین کیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی میں ایک ناگزیر کھلاڑی کے طور پر کیسے ابھرا ہے۔ دہائیوں تک، عالمی برادری نے اسلام آباد کو صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ یا بھارت کے ساتھ جوہری حریف کے طور پر دیکھا۔ آج، یہ تاثر تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ ملک اپنی فوجی پیشہ ورانہ مہارت اور گہرے سفارتی تعلقات کو خطے کے استحکام کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
پاکستان مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی میں ایک ناگزیر کھلاڑی کے طور پر کیسے ابھرا
خطے میں اتحادوں کی حالیہ تبدیلیوں نے ایک ایسی خلا پیدا کی ہے جسے پُر کرنے کے لیے پاکستان منفرد پوزیشن میں ہے۔ دیگر علاقائی طاقتوں کے برعکس، پاکستان ایک 'غیر جانبدار ثالث' کی حیثیت رکھتا ہے جو بیک وقت ریاض، تہران اور ابوظہبی کے ساتھ روابط برقرار رکھ سکتا ہے۔
- تزویراتی فوجی تعاون: پاکستان کے دفاعی تربیتی پروگرام کئی خلیجی ممالک کی افواج کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
- سفارتی ثالثی: اسلام آباد نے کشیدگی کم کرنے کے لیے پس پردہ کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان تناؤ کے دوران۔
- سیکیورٹی کا ڈھانچہ: بحیرہ عرب میں سمندری سیکیورٹی کو سنبھالنے کے لیے پاکستانی انٹیلی جنس اور تکنیکی مہارت کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
سیکیورٹی کلائنٹ سے تزویراتی شراکت دار تک کا سفر
تاریخی طور پر، پاکستان کو اکثر ایک سیکیورٹی کلائنٹ کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو بیرونی امداد پر انحصار کرتا تھا۔ اب یہ بیانیہ اس لیے بدل گیا ہے کیونکہ پاکستان نے ان تنازعات میں فریق بننے سے انکار کیا ہے جو اس کے قومی مفاد میں نہیں تھے۔ علاقائی استحکام کو ترجیح دے کر، پاکستان نے خود کو ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر منوایا ہے۔
یہ اچانک ہونے والی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ ادارہ جاتی توجہ کا نتیجہ ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے باوجود، فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مشرق وسطیٰ کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مستحکم رکھا ہے۔ عام پاکستانی کے لیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک اب صرف تماشائی نہیں رہا بلکہ جنوبی ایشیا کو خلیج سے ملانے والے اقتصادی اور سیکیورٹی راہداریوں کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔
مستقبل میں کیا دیکھنا چاہیے
جب آپ مشرق وسطیٰ کی سیاست پر نظر رکھیں، تو آنے والی جی سی سی-پاکستان سیکیورٹی سربراہی کانفرنسوں پر توجہ دیں۔ یہ ملاقاتیں مشترکہ سمندری گشت اور انسداد دہشت گردی انٹیلی جنس شیئرنگ کے مستقبل کا تعین کریں گی۔
پاکستان کے علاقائی سیکیورٹی فریم ورک میں مزید انضمام کی توقع رکھیں، خاص طور پر توانائی کی سیکیورٹی اور تجارتی لاجسٹکس کے حوالے سے۔ دفتر خارجہ کے لیے چیلنج یہ ہے کہ ان بیرونی وعدوں کو ملکی معاشی استحکام کی ضروریات کے ساتھ کیسے متوازن رکھا جائے۔ یہ 'ناگزیر' حیثیت عام شہریوں کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری اور توانائی کے معاہدوں میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
