ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لُمز) کے اشتراک سے گلگت بلتستان کے دشوار گزار پہاڑوں میں سولر سے چلنے والے رسبری پائی 4 کیمرہ ٹریپس کا نفاذ شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جدید اور کم لاگت ٹیکنالوجی کے ذریعے نایاب جنگلی حیات بالخصوص برفانی چیتوں کی نگرانی اور تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔ یہ منصوبہ اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ کس طرح سستی اوپن سورس ہارڈ ویئر ٹیکنالوجی کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
شمالی علاقوں کے پہاڑی سلسلوں میں انسانی رسائی انتہائی مشکل اور خطرناک ہوتی ہے، جہاں روایتی طریقوں سے جانوروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ناممکن حد تک کٹھن ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ماہرین نے رسبری پائی سنگل بورڈ کمپیوٹرز کا استعمال کیا ہے جو کم بجلی کی کھپت کے ساتھ بہترین کارکردگی فراہم کرتے ہیں۔ ان سسٹمز کو سولر پینلز کے ذریعے چلایا جاتا ہے تاکہ سخت سرد موسم اور طویل سرمائی راتوں میں بھی یہ بلا تعطل کام کرتے رہیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی پریڈیٹر ارلی وارننگ سسٹم
اس پروجیکٹ کا سب سے اہم حصہ ایک اے آئی پر مبنی پریڈیٹر ارلی وارننگ سسٹم ہے جو برفانی چیتوں کی موجودگی کا حقیقی وقت میں پتہ لگاتا ہے۔ روایتی کیمرے ہزاروں ایسی تصاویر محفوظ کر لیتے ہیں جن میں کوئی جانور نہیں ہوتا اور بعد میں محققین کا قیمتی وقت ڈیٹا چھانٹنے میں ضائع ہوتا ہے۔ نیا نظام مقامی طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس الگورتھم استعمال کرتا ہے جو صرف اہم حرکات کو شناخت کر کے الرٹ جاری کرتا ہے۔
جب کوئی شکاری جانور مویشیوں کے باڑوں یا بستیوں کے قریب آتا ہے تو یہ نظام فوری طور پر مقامی دیہاتیوں اور فیلڈ عملے کو مطلع کرتا ہے۔ اس قبل از وقت اطلاع کی وجہ سے چرواہے اپنے جانوروں کو محفوظ بنا سکتے ہیں جس سے کسانوں کے نقصانات میں کمی آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کی طرف سے جوابی کارروائی میں چیتوں کو مارنے کے رجحان میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
مقامی ماحول میں سستی ٹیکنالوجی کی افادیت
بین الاقوامی سطح پر جنگلی حیات کی نگرانی کے لیے بننے والے صنعتی نظام اتنے مہنگے ہوتے ہیں کہ مقامی ادارے انہیں بڑے پیمانے پر نہیں خرید سکتے۔ رسبری پائی 4 جیسی عام اور سستی ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس مالی رکاوٹ کو عبور کیا گیا ہے کیونکہ اس کے پرزے آسانی سے دستیاب اور مرمت کے قابل ہیں۔ اس کامیابی کے بعد پاکستان کے دیگر جنگلات اور پہاڑی سلسوں میں بھی اسی ماڈل کو پھیلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
