ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے غیر ملکی میڈیا قوانین میں کی جانے والی نئی ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جن کے تحت بین الاقوامی صحافیوں کو رپورٹنگ سے قبل سرکاری اجازت لینا ہوگی۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تازہ ترین ضوابط ملک کے اندر آزادانہ کوریج کو دبانے اور آزادانہ نگرانی کو محدود کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہیں۔

سول سادئٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے انتظامی رکاوٹیں کھڑی کرنے سے ملک کی جمہوری ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ اسلام آباد، کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں مقیم غیر ملکی نامہ نگاروں کو اب روزمرہ کے عوامی امور کی کوریج کے لیے بھی طویل تاخیر اور پیچیدہ منظوری کے مراحل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایچ آر سی پی اور پی ایف یو جے کا اصرار ہے کہ ایک شفاف معاشرے کے لیے تمام تسلیم شدہ رپورٹنگ ٹیموں کو بلا روک ٹوک رسائی ملنی چاہیے۔

نئے ضوابط کی تفصیلات کیا ہیں؟

ح متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ نئی انتظامی ہدایات کے مطابق، بین الاقوامی صحافیوں کو مخصوص علاقوں کا دورہ کرنے یا مقامی شہریوں اور حکام سے انٹرویو کرنے سے پہلے متعلقہ سرکاری اداروں سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ ان ہدایات میں وسیع دستاویزات، سفر کا تفصیلی شیڈول اور مجوزہ خبروں کے زاویوں کی پہلے سے فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ سخت شرائط غیر ملکی نامہ نگاروں کو غیر ضروری نگرانی اور خود ساختہ سنسرشپ کا شکار بناتی ہیں۔

صحافتی یونینز کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں انتظامی سختی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ پروٹوکول سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں، لیکن میڈیا واچ ڈاگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ حساس کہانیوں پر ایک غیر اعلانیہ ویٹو کے طور پر کام کرتے ہیں۔ انسانی حقوق، معاشی مشکلات اور علاقائی سیکیورٹی کے مسائل پر آزادانہ رپورٹنگ ان نئے ضوابط کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔

پاکستان میں پریس کی آزادی شدید دباؤ کا شکار

ایچ آر سی پی اور پی ایف یو جے کی طرف سے مشترکہ مزاحمت اس وسیع بحران کو اجاگر کرتی ہے جو ملکی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کو یکساں طور پر درپیش ہے۔ کام کرنے والے رپورٹروں کو درپیش جسمانی خطرات، مالی دباؤ اور قانونی دھمکیوں کی وجہ سے پاکستان عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں نچلے درجے پر موجود ہے۔ ان پابندیوں کو غیر ملکی پریس کے عملے تک بڑھا کر، حکام ملک کے میڈیا کے منظر نامے کو شفافیت کے عالمی معیار سے الگ کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

میڈیا ہاؤسز اور نامہ نگاروں کے نیٹ ورک اب مقامی عدالتوں میں ان ہدایات کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے کے لیے قانونی ماہرین سے مشورہ کر رہے ہیں۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے منظوری کے اس مکینزم کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور وزارت اطلاعات و نشریات پر زور دیا ہے کہ وہ یکطرفہ قانون سازی کے بجائے نمائندہ صحافتی تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرے۔

آپ کو آگے کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ ان انتظامی رکاوٹوں سے متاثر ہونے والے ایک فعال صحافی، محقق، یا سول سوسائٹی کے کارکن ہیں، تو تاخیر سے ملنے والی منظوری یا مسترد شدہ درخواستوں کے ہر واقعے کا ریکارڈ رکھیں۔ اپنی دستاویزی معلومات پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) یا ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے ساتھ ان کے سرکاری ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے شیئر کریں تاکہ جاری قانونی چارہ جوئی کی حمایت کی جا سکے۔

اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں پریس کلب کے آئینوں پر نظر رکھیں تاکہ ان ریگولیٹری تبدیلیوں کے خلاف ممکنہ احتجاج، عوامی سیمینارز اور عدلتی پٹیشنز کی تفصیلات معلوم کی جا سکیں۔ پبلک فورمز اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکس پر آواز بلند کرنا سکڑتی ہوئی شہری جگہوں کا مقابلہ کرنے اور ملک میں آزاد صحافت کے مستقبل کو بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔