ہب کی صنعتیں شدید پانی کے بحران کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ہب انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (HITE) میں فیکٹری مالکان اور صنعت کاروں کو پیداواری سرگرمیاں برقرار رکھنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ صنعت کاروں کا الزام ہے کہ یہ قلت محض قدرتی نہیں بلکہ پانی کی منظم طریقے سے فراہمی میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے، جس سے ان کا جائز حصہ کہیں اور منتقل کیا جا رہا ہے۔
ہب انڈسٹریز میں پانی کے بحران کے اثرات
پانی کی عدم دستیابی نے مینوفیکچررز کو روزمرہ کے کاموں کو جاری رکھنے میں ناکام بنا دیا ہے۔ بہت سی فیکٹریوں کے لیے پانی کولنگ، پروسیسنگ اور صفائی ستھرائی کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔ پانی کا بہاؤ نہ ہونے کے باعث پروڈکشن لائنیں سست پڑ چکی ہیں اور کچھ مقامات پر تو کام مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال ان کاروباری اداروں کے لیے کمر توڑ ثابت ہو رہی ہے جو پہلے ہی بجلی کے مہنگے نرخوں اور افراط زر سے نبردآزما ہیں۔
- پیداوار میں کمی: ٹیکسٹائل اور کیمیکل یونٹس نے پیداوار میں 30 سے 40 فیصد تک کمی کی اطلاع دی ہے۔
- اخراجات میں اضافہ: فیکٹریاں اب نجی پانی کے ٹینکرز پر انحصار کر رہی ہیں، جو سرکاری پائپ لائن سے کئی گنا مہنگے ہیں۔
- معاشی خطرات: ہب انڈسٹریل اسٹیٹ صوبائی معیشت کا اہم ستون ہے، طویل بندش سے ملازمتوں اور ٹیکس ریونیو کو خطرہ لاحق ہے۔
منظم محرومی کے الزامات
صنعت کاروں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ پانی کی تقسیم کا نظام جان بوجھ کر ان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہب انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے مطابق، جو پانی تاریخی طور پر صنعتی زون کے لیے مختص تھا، اسے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا مشاورت کے رہائشی علاقوں یا دیگر شعبوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
ایک فیکٹری مالک کا کہنا ہے کہ "ہمیں منظم طریقے سے ہماری بنیادی صنعتی ضروریات سے محروم کیا جا رہا ہے۔" ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی تقسیم کے نیٹ ورک کا فوری آڈٹ کیا جائے تاکہ صنعتی زون کو اس کا مکمل حصہ مل سکے۔ ان کا موقف ہے کہ اگر بلوچستان کی صوبائی حکومت نے مداخلت نہ کی تو معاشی نقصانات ناقابل تلافی ہوں گے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ ہب کے علاقے میں سرمایہ کار یا بزنس مالک ہیں، تو پانی کی سپلائی میں خلل کے ہر واقعے کا ریکارڈ رکھیں۔ پانی کے پریشر، ٹینکرز پر ہونے والے اخراجات اور پیداوار میں کمی کا ڈیٹا جمع کریں۔ یہ ریکارڈ اس وقت کام آئے گا جب انڈسٹریل ایسوسی ایشن قانونی چارہ جوئی یا صوبائی حکومت کو باضابطہ درخواستیں دے گی۔ ہب انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے ساتھ رابطے میں رہنا ہی اس وقت آپ کے مسائل کو حکومتی سطح پر اٹھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
- حکومتی ردعمل: صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس پر نظر رکھیں، کیونکہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) پر پانی کی تقسیم کی شفاف رپورٹ جاری کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
- ممکنہ احتجاج: صنعت کاروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر رواں ماہ کے آخر تک پانی کی فراہمی معمول پر نہ آئی تو صنعتی زون میں مکمل ہڑتال کی جا سکتی ہے۔
- ترقیاتی منصوبے: ان طویل عرصے سے زیر التواء واٹر پائپ لائن منصوبوں پر نظر رکھیں جن کا مقصد اس خطے میں پانی کے بحران کا مستقل حل نکالنا ہے۔
