ہب میں ہب واٹر کرائسس (پانی کا بحران) اس حد تک سنگین ہو چکا ہے کہ صنعتی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی معمول پر نہ آئی تو فیکٹریاں غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی جائیں گی۔ ہب کے صنعتی علاقے میں کام کرنے والی صنعتوں کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے کوٹے کے مطابق پانی فراہم نہیں کیا جا رہا، جس سے پیداواری عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
صنعتی شعبے پر اثرات
ہب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے تنبیہ کی ہے کہ پانی کی موجودہ کمی کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ فیکٹریوں کے لیے پانی کی مسلسل فراہمی انتہائی ضروری ہے، خاص طور پر پروسیسنگ اور کولنگ کے نظام کے لیے۔ اگر پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور نہ کی گئیں تو کئی صنعتی یونٹس کو تالے لگانے پڑ سکتے ہیں، جس سے نہ صرف بے روزگاری بڑھے گی بلکہ خطے کی معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔
- موجودہ سپلائی صنعتی کوٹے سے نمایاں طور پر کم ہے۔
- مینوفیکچررز پانی کی قلت کے باعث برآمدی آرڈرز بروقت مکمل کرنے سے قاصر ہیں۔
- فیکٹریاں مہنگے داموں ٹینکر مافیا سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں، جس سے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مقامی کاروبار کے لیے مضمرات
اس خطے میں کام کرنے والے مزدوروں اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ صرف یوٹیلیٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی بقا کا سوال ہے۔ ہب میں بڑی صنعتوں کی بندش کا اثر سپلائی چین سے وابستہ ہر شخص پر پڑے گا۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد، جو مہنگے ٹینکرز کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے، سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
اب سب کی نظریں صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام پر ہیں کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔ ہب چیمبر آف کامرس کی جانب سے آنے والے دنوں میں احتجاج یا حکومتی حکام کے ساتھ مذاکرات کا امکان ہے۔ آپ کو ہب چیمبر کے اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ اگر فوری حل نہ نکلا تو صنعتی ہڑتال کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
