ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان زیر حراست اقوام متحدہ اور این جی او کے عملے کو رہا کریں۔ یہ مطالبہ حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والی گرفتاریوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے ملک میں انسانی امدادی کارروائیوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
حراست کا دائرہ کار
بدھ کے روز، عالمی حقوق کے ادارے نے تصدیق کی کہ طالبان حکام نے آٹھ افراد کو حراست میں لے رکھا ہے۔ اس گروپ میں اقوام متحدہ کے دو ملازمین اور غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کے چھ کارکن شامل ہیں۔ اگرچہ کابل میں موجود عبوری حکومت کی جانب سے ان گرفتاریوں کی کوئی واضح وجہ یا الزامات سامنے نہیں لائے گئے، لیکن امدادی کارکنوں کی اچانک گمشدگی نے بین الاقوامی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
پاکستان کے لیے، جو افغانستان کے ساتھ ایک طویل اور پیچیدہ سرحد کا اشتراک کرتا ہے، امدادی کارروائیوں کا تسلسل ایک اہم علاقائی معاملہ ہے۔ کابل میں کام کرنے والی بہت سی تنظیمیں سرحد پار لاجسٹکس پر انحصار کرتی ہیں۔ ان کارکنوں کی گرفتاری اس پہلے ہی نازک انسانی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جہاں لاکھوں افغان باشندے اپنی بقا کے لیے بین الاقوامی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ مطالبہ کیوں اہم ہے؟
امدادی ایجنسیاں عام طور پر غیر جانبداری کے اصول پر کام کرتی ہیں، تاہم یہ گرفتاریاں بین الاقوامی اداروں کے حوالے سے طالبان کے سخت موقف کی عکاسی کرتی ہیں۔ HRW کے بیان میں زور دیا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف زیر حراست افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اس سے بین الاقوامی امدادی گروپوں کے ملک سے انخلا کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
اگر امدادی ادارے کام بند کر دیتے ہیں، تو اس کے نتیجے میں افغانستان میں معاشی بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ اس سے سرحد پار نقل مکانی کے دباؤ اور علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کا مشن برائے افغانستان (UNAMA) مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ عملے کی بحفاظت رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
آگے کیا ہوگا؟
عالمی برادری اب کابل میں طالبان قیادت کی جانب سے واضح جواب کی منتظر ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ یا تو زیر حراست افراد کو فوری قانونی مشاورت تک رسائی دیں یا انہیں بلا تاخیر رہا کریں۔ فی الحال، گرفتار افراد کے اہل خانہ ان کی حراست کے مقام اور حالت کے بارے میں معلومات سے محروم ہیں۔
جوں جوں صورتحال آگے بڑھے گی، توقع ہے کہ اقوام متحدہ طالبان پر سفارتی دباؤ بڑھائے گا۔ اس معاملے پر تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے UNAMA کے بیانات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ آیا طالبان موجودہ تنہائی کی پالیسی پر قائم رہتے ہیں یا بات چیت کا راستہ اختیار کرتے ہیں تاکہ ضروری امدادی خدمات کا سلسلہ جاری رہ سکے۔
