ہیومن رائٹس واچ نے لاہور میں پولیس تحویل کے دوران ایک خاتون اور سترہ سالہ لڑکی کی مشکوک اموات پر فوری، آزادانہ اور شفاف فوجداری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تیرہ اگست دو ہزار پچیس کو سامنے آنے والے اس واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور حراستی تشدد کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ عالمی اور مقامی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ زیر حراست افراد کے تحفظ کو یقینی بنائے اور غفلت یا جبر میں ملوث اہلکاروں کو کٹہرے میں لائے۔

لاہور پولیس اور زیر حراست اموات کا معاملہ

اس واقعے نے ایک بار پھر پاکستانی پولیس کے تفتیشی طریقوں اور حراستی مراکز میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے زور دیا ہے کہ انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ تحقیقات کو پولیس کے اثر و رسوخ سے بالاتر رکھا جائے۔ لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی اس سانحے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطالبات

شفاف تحقیقات کے لیے درج ذیل اقدامات کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے:

  • متعلقہ تھانے کے تمام ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔
  • پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کو مکمل طور پر غیر جانبدار اور عوامی بنایا جائے۔
  • متاثرہ خاندان کو قانونی معاونت اور سیکیورٹی فراہم کی جائے۔
  • پنجاب کے تمام تھانوں میں نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا غیر قانونی حراست یا پولیس زیادتی کا شکار ہو تو فوری طور پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) یا متعلقہ قانونی امدادی تنظیموں سے رابطہ کریں۔ واقعے کے تمام شواہد اور تفصیلات محفوظ رکھنا قانونی چارہ جوئی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

آئندہ کیا متوقع ہے

لاہور ہائیکورٹ اور محکمہ داخلہ پنجاب کے اقدامات پر نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس معاملے پر جوڈیشل انکوائری کمیشن کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے یا نہیں۔ تحقیقاتی پیشرفت سے ہی یہ واضح ہوگا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملتا ہے یا نہیں۔