بجٹ 2026-27 کے بعد ہائبرڈ گاڑیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے پاکستان بھر میں ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیکس نافذ کرنے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جو اسلام آباد، لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے متوسط طبقے کے خریداروں کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ 12 جون 2026 کو مالیاتی سال کے اعلان کے دوران سامنے آنے والی یہ پالیسی 1 جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو چکی ہے، جس نے ملک بھر میں ڈیلرشپ کی قیمتوں میں یکسر تبدیلی لا دی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومتیں ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو ایندھن کی بچت اور مکمل برقی گاڑیوں کی طرف منتقلی کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیتی رہی ہیں، اور کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دے کر خریداروں کو راغب کیا جاتا تھا۔ اب وہ دور ختم ہو چکا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نئے ایس آر او فریم ورک کے تحت، 1200 سی سی سے زائد انجن کی گنجائش والی درآمد شدہ اور مقامی طور پر اسمبل ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں پر اب یہ بھاری 25 فیصد سرچارج لاگو ہوگا، جس سے روایتی پیٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں ان کی قیمت کا فائدہ ختم ہو گیا ہے۔

اہم تفصیلات

  • اعلان کی تاریخ: 12 جون 2026
  • نفاذ کی تاریخ: 1 جولائی 2026
  • متاثرہ علاقے: اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور ملک بھر کی ڈیلرشپ
  • ٹیکس کی شرح: 1200 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں پر 25 فیصد اضافی لیوی
  • متاثرہ ماڈلز: ٹیوٹا پرائس، ہونڈا ویزیل ہائبرڈ، ٹیوٹا کرولا کراس ہائبرڈ، ہینڈائی ٹوسان ہائبرڈ اور اس جیسی دیگر درآمد شدہ گاڑیاں
  • قیمتوں میں اوسط اضافہ: انجن کی صلاحیت اور درآمدی نوعیت کے لحاظ سے 800,000 روپے سے 2,500,000 روپے تک
  • سرکاری تصدیق کا پورٹل: فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کی سرکاری ویب سائٹ

قیمتوں اور آٹو مارکیٹ پر حقیقی اثرات

اس تبدیلی کے پیمانے کو سمجھنے کے لیے ٹیوٹا کرولا کراس جیسی ہائبرڈ گاڑی کی مثال لیں جو پہلے اسلام آباد میں تقریباً 9,500,000 روپے میں فروخت ہو رہی تھی۔ موجودہ سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کے ساتھ اس 25 فیصد اضافی ٹیکس کے نفاذ کے بعد شو رومز میں حتمی قیمتیں 11,800,000 روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ لگژری درآمد شدہ ایس یو ویز کے لیے تو یہ اضافہ فی گاڑی 3,500,000 روپے سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں کے اسمبلرز نے خبردار کیا ہے کہ اس اچانک پالیسی تبدیلی کی وجہ سے مالیاتی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران شو رومز کی فروخت میں کم از کم 40 فیصد کمی واقع ہوگی۔ کراچی اور لاہور کے ڈیلرز کا کہنا ہے کہ 30 جون 2026 سے پہلے کی گئی بکنگ کے آرڈرز پر اب ریگوچی ایشن کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے پریشان صارفین اضافی فنانسنگ کا بندوبست کرنے پر مجبور ہیں۔

صارفین کے لیے آپشنز اور حکومتی توجیہہ

ایف بی آر کے حکام اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مالیاتی خسارے کو پورا کرنے اور غیر ضروری لگژری درآمدات سے زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کے لیے یہ محصول ضروری تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ روایتی انجن والی گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں کے درمیان ٹیکس کا توازن برقرار رکھا جانا چاہیے۔

تاہم، ماہرینِ صنعت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے پائیدار ٹر transporte کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ وہ خریدار جو ریلیف حاصل کرنا چاہتے ہیں یا درآمدی کھیپ کے لیے ٹیرف کوڈز کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں، وہ ایف بی آر کے پورٹل https://www.fbr.gov.pk پر جا سکتے ہیں۔ بینکوں میں مارک اپ کی شرح 15 فیصد کے قریب ہونے کے باعث پاکستان میں کوئی بھی جدید گاڑی خریدنا اشرافیہ کا استحقاق بنتا جا رہا ہے۔